تھائی لینڈ: مظاہرین کی مشروط پیشکش مسترد

تھائی لینڈ کے وزیراعظم ابھیشت ویجا جیوا نے سرخ پوش مظاہرین کی مشروط مذاکرات کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔

تھائی لینڈ میں مظاہرے کی تصویر
Image caption سرخ پوش مظاہرین حکومت سے نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں

اس سے پہلے تھائی لینڈ کے سرخ پوش مظاہرین نے حکومت کو مذاکرات کی مشروط پیشکش کی تھی۔

اس پیشکش کے تحت مظاہرین نے فوری انتخابات کے مطالبے کو واپس لیتے ہوئے حکومت کو پارلیمان تحلیل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دینے کا اعلان کیا تھا۔

مظاہرین مشروط مذاکرات پر آمادہ

تھائی لینڈ کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ’ کیونکہ یہ پرتشدد ہیں اور دہشت پھیلاتے ہیں، وہ یہ قبول نہیں کر سکتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ تیس دن میں پارلیمان کو تحلیل کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے، تحلیل کرنے کا فیصلہ پورے ملک کے مفاد میں کیا جانا چاہیے نہ کہ صرف سرخ پوشوں کے لیے، اور جب وقت آئے گا یہ فیصلہ کیا جائے گا۔‘

تھائی لینڈ کے وزیراعظم ابھیشت ویجاجیوا پہلے ہی رواں سال کے اختتام پر انتخابات کروانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ سرخ پوش مظاہرین نے گزشتہ چھ ہفتوں سے بنکاک کے مختلف علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

اس سے پہلے مظاہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حالیہ پرتشدد واقعات کی تحقیقات کی جائیں اور مظاہروں میں شریک افراد پر تشدد کا سلسلہ بند کیا جائے۔

خیال رہے کہ جمعرات کی شام کو بینکاک میں دو دھماکے ہوئے تھے جس میں پہلے یہ اطلاع آئی تھی کہ تین افراد ہلاک ہوئے لیکن بعد میں حکومت کا کہنا تھا کہ صرف ایک فرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

مذاکرات کی مشروط پیشکش کرتے ہوئے سرخ پوش مظاہرین کے رہنما ویرا مسیکاپونگ نے کہا ہے کہ ’اگر حکومت یہ کہہ دے کہ وہ ایک ماہ میں پارلیمان تحلیل کر دے گی تو اس پر بات ہو سکتی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پارلیمان کی تحلیل کے بعد حکومت کے پاس انتخابات کے لیے مزید ساٹھ دن ہوں گے اور یہ کل ملا کر نوے دن کا وقت ہوگا۔ تاہم حکومت کو لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بند کر کے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا‘۔

بی بی سی کی ریچل ہاروے کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری تناؤ اور تشدد کے بعد یہ سمجھوتے کی جانب پہلا قدم دکھائی دیتا ہے۔

اس سے قبل جمعہ کی صبح تھائی حکومت نے جمعرات کو ہونے والے دھماکوں کے لیے نامعلوم شدت پسندوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

حکومت کے ترجمان پنیتن وتانایاگرون کا کہنا تھا کہ یہ دھماکے ’ان شدت پسندوں کی کارروائی تھی جنہیں حکومت ہمیشہ ختم کرنا چاہتی ہے‘۔ تاہم سرخ پوش مظاہرین نے کہا ہے کہ دھماکے انہوں نے نہیں کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا وہ معصوم لوگوں کی جان لینے کا کام نہیں کرتے۔

اسی بارے میں