’مالیاتی بحران یورپ بھرمیں پھیل سکتا ہے‘

آئی ایم ایف کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ یونان جس مالیاتی بحران کا شکار ہے وہ پورے یورپ میں پھیل سکتا ہے۔

برلن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈومینک سٹراس کہان کا کہنا تھا کہ یونان کے مسائل کے حل کے حوالے سے ہر گزرتے دن سے اس بحران کے اثر کے دور تک پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے سربراہ ان جرمن سیاستدانوں کو قائل کرنے کے لیے جرمنی پہنچے ہیں جب اب تک یونان کے امدادی پیکج کی حمایت نہیں کر رہے۔

لیکن ایک ایسے وقت میں جب یونان کو مالیاتی بحران سے نکالنے کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں دیگر یورپی ممالک کے مالیاتی حالات کے بارے میں اچھی خبریں موصول نہیں ہو رہی ہیں۔

بدھ کو کریڈٹ ریٹنگ ادارے سٹینڈرڈ اینڈ پور نے سپین کی درجہ بندی اے اے مثبت سے اے اے کر دی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ سپین میں قرضوں کی بنیاد پر چلنے والی ہاؤسنگ اور تعمیرات کی صنعت کی ناکامی کے بعد وہاں ترقی کے امکانات بہت روشن نہیں ہیں۔

آئی ایم ایف کے سربراہ نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں اسی قسم کی بات کی اور ان کا کہنا تھا کہ ’ آج تو یونان کی مالی حالت داؤ پر لگی ہوئی ہے لیکن یہ سب کچھ اس سے کہیں بڑا ہے۔ ہمیں اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے گا لیکن اگر ہم اسے یونان میں حل نہیں کریں گے تو یورپی یونین کو بہت سے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑا سکتا ہے‘۔

ادھر جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل کا کہنا ہے کہ یونان کے امدادی پیکج پر بات چیت میں تیزی لانی چاہیے۔ انہوں نے آئی ایم ایف کے سربراہ سے ملاقات کے بعد کہا کہ ’یہ بات بالکل واضح ہے کہ یونانی حکومت، یورپی کمیشن اور آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں تیزی لانے کی ضرورت ہے‘۔

یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے ناتے یوروزون ممالک کے امدادی پیکج میں سب سے زیادہ حصہ جرمنی کا ہی ہو گا۔ اس وقت آئی ایم ایف اور ای یو کی جانب سے یونان کو پینتالیس ارب یورو کے امدادی پیکج کی پیشکش کی جا چکی ہے لیکن اطلاعات کے مطابق اس پیکج کی کل مالیت سو سے ایک سو بیس ارب یورو ہو گی اور یہ رقم تین برس کے دوران فراہم کی جائے گی۔

اسی بارے میں