قندہار:سرکردہ قبائلی رہنما کا قتل

فائل فوٹو
Image caption نیٹو کو ایندھن فراہم کرنے والے کئی ٹرک جل گئے

قندہار شہر میں ایک سرکردہ قبائلی رہنما کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ نے قندہار شہر میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر اپنے دفاتر عارضی طور پر بند کرنے اور وہاں پر موجود عملے کے بیشتر غیر ملکی ارکان کو شہر سے واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق قبائلی سردار عبدالرحمان اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے جب نامعلوم حملہ آووروں نے انھیں سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

عبدالرحمان نے اس مہینے کے شروع میں افغان صدر حامد کرزائی سے ایک جرگے میں کہا تھا کہ جو شخص بھی طالبان کے خلاف بات کرے گا وہ اپنی جان خطرے میں ڈالے گا۔ صدر حامد کرزئی کے ساتھ اس مکالمے کے بعد ان کا نام ملک کے ذرائع ابلاغ میں شہ سرخیوں میں آیا تھا۔

عبدالرحمان اس بیان کے صرف بیس دن بعد انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ قندہار شہر میں دو ماہ سے کم عرصے میں تیرہ سرکردہ نمایاں شخصیات کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

دریں اثناء افغانستان کے دارالحکومت کابل میں موجود اقوام متحدہ کے حکام نے یہ اعلان قندھار شہر میں نیٹو کے ایک ہوائی اڈے کے قریب واقع تیل کے ذخیرے پر طالبان کے حملے کے چند گھنٹوں بعد کیا۔ نیٹو کے ہوائی اڈے کے قریب تیل کے اس ذخیرے پر حملے میں کئی گاڑیوں کی آگ لگ گئی۔

کابل میں ’یو این اے ایم اے‘ کے ایک ترجمان نازیفلاح سلارزئی نے کہا ہے کہ قندہار میں موجود اقوام متحدہ کے عملے کے مقامی ارکان کو احتیاط سے کام لینے اورگھروں یا دفتروں تک محدود رہنے کا کہا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ اقدام سکیورٹی کی صورت حال کے پیش نظر کیا گیا ہے تاہم اس سے اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ عملے کا تحفظ اقوام متحدہ کی اولین ترجیح ہے۔

قندہار میں طالبان کی طرف سے پُرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب گزشتہ کئی ماہ سے یہ کہا جارہا ہے کہ نیٹو اور امریکی افواج قندہار میں ایک بڑی فوجی کارروائی کی تیاریاں کر رہی ہیں۔

گزشتہ دنوں افغان صدر حامد کرزائی نے قندہار کے دورے کے دوران وہاں مقامی قبائلی عمائدین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ قندہار شہر میں کوئی فوجی کارروائی مقامی آبادی کو اعتماد میں لیے بغیر نہیں کی جائِے گی۔

کابل میں ایک رکن پارلیمان عباس نویان نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے سرکاری حکام اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہیں اس لیے قندہار میں سکیورٹی کی صورت حال بگڑ رہی ہے۔

یاد رہے کہ سوموار کو بھی قندہار شہر میں دو زور دار دھماکے ہوئے تھے جن میں دو شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں