بیلجیئم:نقاب پر پابندی کا بل منظور

بیلجیئم کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں نےعوامی مقامات پر پورے چہرے کے نقاب پر پابندی عائد کرنے کے بل کی منظوری دے دی ہے۔

ایوانِ زیریں کے کسی بھی رکن نے اس بل کی مخالفت نہیں کی اور اب یہ بل سینیٹ میں بھیجا جائے گا جہاں سے متوقع منظوری کے بعد جون یا جولائی 2010 میں یہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔

سینیٹ سے بل کی منظوری کی صورت میں بیلجیئم وہ پہلا یورپی ملک بن جائے گا جہاں عوامی مقامات پر برقعہ اوڑھنے یا نقاب کرنے پر پابندی ہوگی۔

بیلجیئم کی قریباً پانچ لاکھ مسلم آبادی میں سے صرف تیس خواتین ایسی ہیں جو اس قسم کا نقاب لیتی ہیں۔

بیلجیئن پارلیمان میں پیش کیے جانے والے بل میں خصوصی طور پر نقاب کا ذکر نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کے ایسے لباس کی اجازت نہیں ہوگی جسے پہن کر پارکوں، سڑکوں اور دیگر عوامی مقامات پر کوئی اپنی شناخت چھپا سکے۔

بل کے مطابق اگر شناخت چھپانے والا فرد نے پولیس سے اس عمل کی اجازت نہیں لے گا تو اسے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر پندرہ سے پچیس یورو جرمانے یا سات دن قید یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔

برسلز میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈومینک ہیوز کا کہنا ہے کہ بیلجیئن ارکانِ پارلیمان نے حفاظتی نقطۂ نظر سے اس بل کی حمایت کی جبکہ نامہ نگاروں کے مطابق کچھ ارکان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پورے چہرے کا نقاب خواتین کے استحصال کی علامت ہے۔

یورپی مسلم تنظیم ’مسلم ایگزیکٹو آف برٹن‘ نے متنبہ کیا ہے کہ اس پابندی کے نتیجے میں نقاب لینے والی خواتین گھروں میں قید ہو کے رہ جائیں گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے فرانس کی حکومت نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ عوامی مقامات میں برقعہ پہننے پر پابندی عائد کرنے سے متعلق ایک بل مئی میں پارلیمان میں پیش کر ےگی۔ فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی گذشتہ برس کہہ چکے ہیں کہ فرانس میں اس طرح کے ملبوسات کی کوئی جگہ نہیں ہے جو خواتین کے حقوق کو صلب کرتے ہیں۔

اسی بارے میں