آخری وقت اشاعت:  جمعرات 29 اپريل 2010 ,‭ 13:22 GMT 18:22 PST

’امیگریشن بحث کے دائرے سے باہر نہیں‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

برطانیہ میں جاری انتخابی مہم میں لیبر پارٹی کے سربراہ اور وزیر اعظم گورڈن براؤن کے ایک خاتون ووٹر کو ’متعصب‘ کہنے سے ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے اور لیبر نے ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے کہا ہے کہ ’امیگریشن‘ کوئی ایسا معاملہ نہیں جس پر تبدیلی کی کوئی بات نہ ہو سکے۔

ان انتخابات میں شامل تینوں بڑی جماعتوں کے سربراہوں میں ٹی وی مباحثے کی جمعرات کو تیسری کڑی سے پہلے لیبر کے ترجمان ایلن جانسن نے کہا ہے کہ اس معاملے کو ٹی وی مباحثے میں اٹھایا جانا بالکل جائز ہے۔

انھوں نے کہا کہ گورڈن براؤن نے ہولناک غلطی کی ہے اور وہ بہت شدید دباؤ میں ہیں۔

گورڈن براؤن نے ایک خاتون ووٹر کو متعصب کہنے پر معافی مانگی لی ہے۔ جمعرات کو کنزرویٹو پارٹی کے ڈیوڈ کیمرون اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے نک کلیگ کے ساتھ گورڈن براؤن معیشت پر ٹی وی بحث میں حصہ لے رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار نک رابنسن نے کہا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ گورڈن براؤن اس مباحثے میں جارحانہ انداز اختیار کریں گے کیونکہ نہ صرف ان کی اپنی بقاء بلکہ لیبر پارٹی کے مستقبل کا دارومدآر بھی اس مباحثے میں ان کی کارکردگی پر ہے۔ انھوں نے کہا کہ خدشہ ہے کہ گورڈن براؤن کی اس حماقت کی وجہ سے لوگ شاید لیبر پارٹی کو ووٹ نہ ڈالیں۔

وزیر داخلہ ایلن جانسن نے کہا کہ پینش لینے والی خاتون ووٹر گیلیان ڈفی نے مشرقی یورپ سے امیگریشن حاصل کرنے والوں کا معاملہ اٹھا کر متعصب ہونے کا ہر گز مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ انھیں خوشی ہے کہ گورڈن براؤن نے اس معاملے پر پارٹی کا موقف واضح کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ گورڈن براؤن انتخابی مہم کی مصروفیات اور وزیر اعظم کی ذمہ داریوں کی وجہ سے شدید دباؤ میں ہیں اور اس دباؤ کی وجہ سے اُن سے یہ غلطی سرزد ہو گئی۔

انھوں نے کہا ’کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ نقصان دہ نہیں ہے، ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ گورڈن براؤن نے اس پر کسی طرح کا رد عمل ظاہر کیا۔ لوگ اس بات کا احساس کریں گے کہ کبھی کبھار آپ وہ کہہ جاتے ہیں جوآپ کہنا نہیں چاہتے۔‘

ایلن جانسن نے کہا کہ گورڈن براؤن راشڈیل سے تعلق رکھنے والی پینسٹھ سالہ خاتون کے جذبات کو مجروح نہیں کرنا چاہتے تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ خاتون ووٹر کی طرف سے جن خیالات کا اظہار کیا گیا بہت سے لوگوں کی یہی سوچ ہے اور ان کا اظہار بالکل جائز ہے۔

انھوں نے کہا کہ خاتون ووٹر متعصب نہیں تھیں، گورڈن براؤن کوئی افریت نہیں ہیں اور امیگریشن کا معاملہ بحث کے دائرے سے باہر نہیں ہے۔

گورڈن براؤن نے خاتون ووٹر ڈفی سے معذرت کر لی ہے۔ ڈفی گھر سے نکل کر ڈبل روٹی خریدنے گئی تھیں جب ان کی ملاقات گورڈن براؤن سے ہو گئی جو اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں علاقے کے دورے پر تھے۔ اس موقع پر ڈیفی نے گورڈن براؤن سے کئی معاملات پر سوالات کر ڈالے۔

ڈفی سے مکالمے کے بعد گورڈن براؤن جب اپنی گاڑی میں بیٹھے تو انھوں نے ٹیلی فون پر اپنے معاون سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ووٹرز سے ملاقات تباہ کن رہی اور انھوں نے ڈفی کو ایک متعصب عورت قرار دیا۔ یہ بات چیت ان کے کالر میں لگے ایک ٹی وی چینل کے مائیکرو فون پر ریکارڈ ہو گئی۔

بعد ازاں گورڈن براؤن اس خاتون ووٹر کےگھرگئے اور اس سے معذرت طلب کی۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ان سے غلطی ہو گئی ہے اور لیبر پارٹی کے کارکنوں سے بھی ای میل کے ذریعے معافی مانگی۔

ٹی وی بحث سے پہلے انھوں نے کہا ’ آپ نے مجھے ٹی وی پر دیکھا ہو گا۔ آپ پھر ٹی وی پر دیکھیں گے ایک ایسے شخص کو جس کو صرف آپ کا نمائندہ ہونے ہی پر فخر نہیں بلکہ جو آپ کو درپیش معاشی مسائل سے بھی آگاہ ہے۔‘

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔