ممکنہ بچت مہم کے خلاف احتجاجی مظاہرے

یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں مالی بحران سے نمٹنے کے لیے ملنے والے امدادی پیکج کے بدلے میں ممکنہ طور پرکی جانے والی بچت مہم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

فائل فوٹو
Image caption جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب یونان کی پارلیمنٹ کے سامنے بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں

ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے وزراتِ خزانہ کے دفتر کی طرف جانے کے لیے پولیس کے حصار کو توڑنے کی کوشش کی اور اس دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

یہ مظاہرے اس وقت کیے جا رہے ہیں جب یونان کے وزیراعظم اور ٹریڈ یونین کے رہنماوں کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ ٹریڈ یونینز نے امدادی پیکج کے بعد ممکنہ طور پر اپنائی جانے والی بچت مہم کے فیصلے پر سخت غصے کا اظہار کیا ہے۔

یونان کی سب سے مضبوط ٹریڈ یونین کے سربراہ نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ انھیں بڑے سخت اقدامات کے پیکج کا اندازہ ہوا ہے ، ان اقدامات کا راستہ مالی بحران کی جانب لے جائے گا۔‘

یونین نے پانچ مئی کو عام ہڑتال کا اعلان بھی کیا ہے۔ ایتھنز میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مالیاتی پیکج کے خلاف غصے میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جب کہ یونان کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔

اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے مظاہرین نے احتجاج کیا ہے۔

اس پیکج کی منظوری کی وجہ سے یونان ادائیگیوں کے توازن کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔

امدادی پیکج پر بات چیت کے لیے اس وقت یونان میں عالمی مالیاتی فنڈ یا آئی ایم ایف، یورپ کے مرکزی بینک اور یورپی یونین کے اہلکار اکٹھے ہوئے ہیں۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یونان کے لیے ہنگامی ’بیل آؤٹ پلان‘ یا امدادی پیکج منظوری کے قریب ہیں۔

یورپی کمیشن کے سربراہ جوز مینوئل کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں’ تیزی سے پیش رفت‘ ہوئی ہے۔ انھوں نے ایک نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ انھیں یقین ہے کہ آئندہ چند دنوں میں بات چیت حمتی نتیجے پر پہنچ جائے گی۔‘

یونان کا کہنا ہے کہ اسے انیس مئی تک امدادی پیکج مل جانا چاہیے تاکہ وہ بری طرح دیوالیہ ہونے سے بچ جائے۔

اسی بارے میں