’اسرائیل فلسطین بات چیت آئندہ ہفتے سے‘

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بالواسطہ بات چیت اگلے ہفتے شروع ہوجائے گی۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران ہلیری کلنٹن نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادیوں کی تعمیر روک دے گا اور غزہ کے باشندوں کے حالات بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کرے گا۔

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ’ہم اگلے ہفتے بالواسطہ بات چیت شروع کرنے جارہے ہیں۔ سینیٹر مچل دوبارہ خطے کا دورہ کر رہے ہیں۔ لامحالہ ہم چاہتے ہیں کہ دونوں فریقین براہ راست بات چیت کریں اور تمام حل طلب مسائل کو حل کریں‘۔

اسرائیل اور فلسطین کی امن بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں گزشتہ ماہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں یہودی بستی کی تعمیر کے مسئلے کی وجہ سے ناکام ہوگئی تھیں۔ خیال رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات کا عمل جنوری 2008ء سے معطل ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ سنیچر کو عرب وزرائے خارجہ کے اجلاس میں مذاکرات کے اس نئے سلسلے کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

ہلیری کلنٹن کے اس اعلان پر بات کرتے ہوئے فلسطینی مذاکرات کار صائب ارکات کا کہنا ہے کہ ’ہم اس بات چیت کے آغاز کے لیے ہرممکن کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن باقاعدہ طور پر اس کا فیصلہ عرب وزرائے خارجہ اور پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی کرے گی‘۔

اسرائیل کی جانب سے امریکی وزیرِ خارجہ کے بیان پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

امریکہ اسرائیل اور فلسطین کی امن بات چیت کی بحالی کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہا ہے اور مشرقِ وسطٰی کے لیے امریکی صدر کے نمائندۂ خصوصی جارج مچل اور ان کی ٹیم اسرائیل سے وہ یقین دہانیاں حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے جن کی بنیاد پر فلسطینیوں کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جا سکے۔

چند روز قبل جارج مچل نے اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں سے اپنی حالیہ ملاقاتوں کو ’مثبت اور تعمیری‘ قرار دیا تھا۔

امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل میں گزشتہ ہفتے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے غزہ کے محاصرے میں نرمی لانے، قیدیوں کی رہائی، سولہ سو متنازع گھروں کی تعمیر کو دو برس تک ملتوی کرنے اور یروشلم کی سرحدی حدود اور حیثیت پر بات کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

امریکی محکمۂ حارجہ میں بی بی سی کے نامہ گار کم گھٹاس کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ نے فلسطینیوں کو اس حوالے سے کیا ضمانتیں دی ہیں کہ اسرائیل کی جانب سے یکطرفہ طور پر امن عمل کو نقصان پہنچانے کی کوششیں نہیں کی جائیں گی۔

اسرائیل نے مشرقی یروشلم سمیت غربِ اردن پر سنہ 1967 سے غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یروشلم اس کا غیر تقسیم شدہ دارالحکومت رہے گا۔

غربِ اردن میں موجود سو بستیوں میں پانچ لاکھ کے قریب یہودی آباد ہیں جبکہ یہاں کی فلسطینی آبادی کی تعداد پچیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ بین الاقوامی قوانین ان یہودی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں تاہم اسرائیل یہ ماننے کو تیار نہیں ہے۔

اسی بارے میں