مشرقِ وسطیٰ مذاکرات:عرب لیگ حامی،حماس ناراض

مشرق وسطیٰ کے بارے امریکہ کے خصوصی ایلچی اگلے مشرق وسطیٰ پہنچنے والے ہیں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان باالواسطہ مذاکرات کی توثیق کردی ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ وہ اس بات چیت میں ہونے والی پیش رفت کا بغور جائزہ لے گی۔

قاہرہ میں لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد سیکرٹری جنرل امر موسٰی کا کہنا تھا۔ کہ وہ اس باالواسطہ بات چیت میں شرکت اور اس میں فلسطینی موقف کی پشت پناہی کے لیے تیار ہیں۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے عرب لیگ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اسے فلسطینیوں کے باقاعدہ ردِ عمل کا انتظار ہے۔

دوسری طرف فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کے ساتھ باالواسطہ مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی گارنٹی ایک دھوکہ ہے۔حماس نے کہا اسرائیل کے ساتھ اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے جب تک وہ فلسطینی علاقوں کو خالی نہیں کر دیتا۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ صرف بات چیت کرلینا کافی نہیں ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کیا ہورہا ہے، ہمیں اس کو بھی دیکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی کہتے ہیں کہ وہ نئی یہودی بستیاں تعمیر نہیں کر رہے لیکن انہیں اسرائیل کے اس بیان کی حقیقت کو بھی جانچنا ہوگا۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا تھا کہ اسرائیل اور فلسطینوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرت اگلے ہفتے سے شروع ہوں گے۔

امریکی وزیر خارجہ نے واشنگٹن میں رپورٹروں کو بتایا کہ مشرقی وسطیٰ کے لیے امریکہ صدر کے خصوصی ایلچی جارج مچل اگلے ہفتے مشرق وسطیٰ پہنچیں گے۔

پچھلے ماہ بالواسطہ مذاکرت اس وقت ناکام ہوگئے تھے جب امریکی نائب صدر کے دورہ اسرائیل کے دوران اسرائیل نے مشرقی یورشلم میں مزید یہودی بستیاں تعمیر کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ امریکہ نے اسرائیلی فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کیا تھا اور دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہ امریکہ سرائیل اور فلسطین کے درمیان براہ راست مذاکرات کے عمل کو جلد سے جلد شروع کرانا چاہتا ہے۔

اسرائیل نے امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

ادھر عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان باالواسطہ مذاکرات کی توثیق کردی ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ وہ اس بات چیت میں ہونے والی پیش رفت کا بغور جائزہ لے گی۔ قاہرہ میں لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد سیکرٹری جنرل امر موسٰی کا کہنا تھا۔ کہ وہ اس باالواسطہ بات چیت میں شرکت اور اس میں فلسطینی موقف کی پشت پناہی کے لیے تیار ہیں۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ گفتگو کرلینا کافی نہیں ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کیا ہورہا ہے، ہمیں اس کو بھی دیکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی کہتے ہیں کہ وہ نئی یہودی بستیاں تعمیر نہیں کر رہے لیکن انہیں اسرائیل کے اس بیان کی حقیقت کو بھی جانچنا ہوگا۔