موغادیشو: مسجد میں دھماکہ، 30ہلاک

صومالی دارالحکومت موغادیشو کی ایک مسجد میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم سے کم تیس لوگ ہلاک جبکہ ستر سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

ایک اطلاع کے مطابق شدت پسند گروہ الشباب کے ایک سینئیر رہنما فواد محمد خلف بم حملوں کا ہدف تھے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ ان دھماکوں میں بچ گئے یا نہیں۔

الشباب کا تعلق القاعدہ سے بتایا جاتا ہے۔ دھماکے جس مسجد میں وہ علاقہ الشباب اور حزب اسلامی کے زیر اثر ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ دھماکہ کس نے کیا ہے۔ کسی گروہ نے بھی دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

موغادیشو کے علاقے بکرا مارکیٹ میں ایک ہفتے میں یہ دوسرا دھماکہ ہے۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دھماکہ شدت پسند گروہوں کی باہمی کشیدگی کا نتیجہ ہے۔ حزب اسلامی اور الشباب صومالیہ کی حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سنیچر کے روز دھماکہ عبداللہ شیدائی مسجد میں ہوا جہاں الشباب کے اہلکار اکثر خطبہ دیا کرتے تھے۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ لاشوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ دھماکے کے الشباب کے مسلح افراد نے مسجد کو گھیرے میں لے لیا۔