مغوی افغان سفیر کی ویڈیو جاری

پاکستان کے شہر پشاور سے ڈیڑھ سال قبل اغوا کیے جانے والی افغان سفارتکار عبدالخالق فراحی کے اغوا کاروں نے ان کی ایک ویڈیو جاری کر دی ہے۔

عبدالخالق فراحی
Image caption ڈاکٹر عبدالخالق فراحی کو بائیس ستمبر 2008 کو پشاور سے اغوا کیا گیا تھا

افغان سفارتکار اور پاکستان میں افغانستان کے نامزد قونصل جنرل ڈاکٹر عبدالخالق فراحی کو بائیس ستمبر 2008 کو پشاور کے علاقے حیات آباد میں مسلح افراد نے اغواء کر لیا تھا اور اس واردات میں ان کے ڈرائیور کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ عینی شاہدین کا دعویٰ تھا کہ ایک سفید ڈبل کیبن گاڑی میں چھ مسلح افراد نے افغان قونصل جنرل کو اغواء کیا۔

پشاور: افغان سفارتکار اغوا

اب ڈاکٹر فراحی کی حراست کی ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں اغواکاروں کا کہنا ہے کہ وہ فراحی کی رہائی کے سلسلے میں کرزئی حکومت سےخفیہ مذاکرات کر رہے تھے تاہم افغان حکومت تاخیر کرتی رہی اور ان کے مطابات نہیں پورے کیے گئے ہیں۔

ویڈیو میں ڈاکٹر فراحی چھوٹی آستینوں والی قمیض اور پتلون میں ملبوس ہیں، ان کی داڑھی پہلے سے کافی سفید نظر آرہی ہے۔ ان کے پیچھے تین نقاب پوش عسکریت پسند کھڑے ہیں جنہوں نے کلاشنکاف اٹھائی ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر فراحی وئٹیو میں بتاتے ہیں کہ ان کی حالت بہت خراب ہے اور وہ افغان حکومت اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کوشش کر کے ان کی جان بچالیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس انٹرویو کے بعد عین ممکن ہے کہ یہ لوگ مجھے قتل کر دیں۔‘

سفارتکار کے بیان کے بعد ایک عسکریت پنسد جارحانہ انداز میں بتاتا ہے کہ ’اس شخص کو مجاہدین نے پکڑا تھا اور یہ ہماری تحویل میں ہے۔ ہم کرزئی حکومت سے اس کی رہائی کے لیے مذاکرات کرتے رہے ہیں لیکن افغان حکومت نے ہمارے مطالبات اور مذاکرات میں سنجیدگی نہیں دکھائی۔‘ اس عسکریت پسند نے کہا کہ انہیں کرزئی حکومت کے رویے پر مایوسی ہوئی ہے اور اس لیے انہوں نے ڈیڑھ سالی خاموشی کے بعد اب میڈیا سے رابطہ کیا ہے۔

ویڈیو میں اغواکار اپنے آپ کو ’مجاہدین‘ کہہ رہے ہیں اور دعوی کیا گیا ہے کہ ان کا تعلق ’کتیبہ صلاح الدین ایوبی‘ نامی کسی تنظیم سے ہے۔

اسی بارے میں