فیصل شہزاد: چارج شیٹ کی تفصیل جاری

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی نیویارک کے ٹائمز سکوائر میں ناکام کار بم حملہ کرنے والے پاکستانی نژاد فیصل شہزاد کے خلاف چارج شیٹ میں ان کے پاکستانی روابط اور واقعے کی ایک مجموعی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے تاہم ابھی ان الزامات کو عدالت میں ثابت کرنا باقی ہے۔

فیصل شہزار
Image caption فیصل شہزاد پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے دہشتگردی کے لیے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کو استعمال کرنے کی کوشش کی

ایف بی آئی کی جانب سے نیویارک کی عدالت میں پیش کردہ دس صفحات دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ فیصل شہزاد نے گرفتاری کے فوراً بعد اقرار کیا تھا کہ ٹائمز سکوائر میں انھوں نے بم دھماکہ کرنے کے لیے گاڑی کھڑی کی تھی۔

فیصل شہزاد کون؟

فیصل شہزاد سے کی گئی تفتیش اور واقعہ کی ابتدائی تحقیقات پر مبنی ایف بی آئی کی دستاویز کے مطابق فیصل شہزاد نے یہ بھی اقرار کیا کہ انھوں نے بم بنانے کی تربیت پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں حاصل کی تھی۔

ایف بی آئی کے مطابق ٹائمز سکوائر کے واقعے سے چند روز قبل ملزم نے ایک موبائل فون، دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور آتش بازی کا سامان خریدا تھا۔

ایف بی آئی نے ان کے موبائل نمبر سے حاصل شدہ ریکارڈ کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ اس ساری خریداری کے دوران ملزم پاکستان میں ایک مخصوص ٹیلی فون نمبر پر کال کرتے اور وہاں سے آنے والی کالز سنتے رہے۔

ٹائمز سکوائر کے واقعے کے بعد انھوں نے موبائل فون کو استعمال نہیں کیا تھا۔

امریکی امیگریشن ریکارڈ کے حوالے سے بتایا گیا ہے تین فروری کو امریکہ پہنچنے پر ملزم نے حکام کو بتایا کہ وہ والدین سے ملنے پاکستان گئے تھے اور پانچ ماہ وہاں رہنے کے بعد یک طرفہ ٹکٹ پر امریکہ واپس آئے ہیں

۔انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس امریکہ میں رہائش نہیں ہے اور وہ ملازمت تلاش کرنے کے دوران کسی موٹل میں قیام کریں گے۔ ملزم نے بتایا کہ ان کی بیوی پاکستان میں ہی رک گئی ہیں۔

دبئی جانے والی پرواز سے گرفتاری کے وقت فیصل شہزاد نے بتایا کہ وہ جس گاڑی میں ہوائی اڈے تک آئے اس میں پستول موجود تھا۔ ملزم کی نشاندہی پر ایف بی آئی کے ایجنٹ نے وہ پستول بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسی بارے میں