مسلم خواتین پارلیمان میں

شبانہ محمود نے دس ہزار ووٹوں کی برتری سے انتخاب جیتا۔ برطانیہ میں چھ مئی کو منعقدہ عام انتخابات میں تین مسلم خواتین بھی پارلیمان کی رکن منتخب ہوئی ہیں۔

سنہ 2010 کے عام انتخابات میں اکیس ایشیائی خواتین نے برطانیہ کی تینوں بڑی جماعتوں کی جانب سے حصہ لیا تھا اور یہ برطانوی پارلیمان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کوئی مسلم خاتون رکنِ پارلیمان بنی ہے۔

سبقت کنزرویٹو کی، امکان معلق پارلیمان کا

منتخب ہونے والی خواتین میں برمنگھم سے تعلق رکھنے والی بیرسٹر شبانہ محمود، مشرقی بولٹن کی یاسمین قریشی اور لندن کے علاقے بیتھنل گرین کی روشن آراء علی شامل ہیں اور ان تینوں خواتین نے لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔

پاکستان سے نو برس کی عمر میں برطانیہ آنے والی ایڈوکیٹ یاسمین قریشی نے اس الیکشن میں اٹھارہ ہزار سات سو بیاسی ووٹ حاصل کر کے اپنے مدِ مقابل کنزرویٹو امیدوار اینڈی مورگن کو ساڑھے آٹھ ہزار ووٹوں کے واضح فرق سے شکست دی۔

Image caption یاسمین قریشی مشرقی بولٹن کے حلقے سے رکنِ پارلیمان بنی ہیں

اس حلقے میں گزشتہ الیکشن کے برعکس کنزرویٹو امیدوار نے قریباً تین فیصد زیادہ ووٹ حاصل کیے اور لیبر کو آٹھ فیصد ووٹوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس کے باوجود لیبر نے یہ سیٹ جیت لی۔

لندن کے بیتھنل گرین حلقے سے انتخاب جیتنے والی روشن آراء علی پہلی بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہری ہیں جو رکنِ پارلیمان بننے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ انہوں نے لبرل ڈیموکریٹ امیدوار اجمل مسرور کو دس ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ خیال رہے کہ بیتھنل گرین میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت آباد ہے اور یہاں ہونے والے انتخاب میں تمام بڑی جماعتوں کی امیدوار بنگلہ دیشی نژاد ہی تھے۔

منتخب ہونے والی تیسری مسلم خاتون شبانہ محمود نے برمنگھم کے لیڈی ووڈ حلقے سے انیس ہزار نو سو پچاس ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔شبانہ کے مدِ مقابل لبرل ڈیموکریٹ امیدوار ایوب خان کو نو ہزار آٹھ سو پینتالیس ووٹ ملے جبکہ اسی حلقے سے کنزرویٹو پارٹی کی خاتون امیدوار نصرت غنی نے چار ہزار دو سو ستتر ووٹ حاصل کیے۔

Image caption روشن آراء علی برطانوی پارلیمان میں پہنچنے والی پہلی بنگلہ دیشی نژاد برطانوی ہیں

شبانہ کے برعکس برمنگھم میں جس مسلم خاتون امیدوار کی فتح کی پیشنگوئیاں کی جا رہی تھیں وہ یہ معرکہ سر نہیں کر سکیں۔

انتخابات سے قبل برمنگھم کے ہال گرین حلقے میں جارج گیلووے کی رسپیکٹ پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والی سلمٰی یعقوب کی فتح کے واضح امکانات ظاہر کیے جا رہے تھے تاہم انتخابی نتائج کے مطابق یہاں سے لیبر پارٹی کے راجر گوڈسف سولہ ہزار انتالیس ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ سلمٰی نے بارہ ہزار دو سو چالیس ووٹ لیے ہیں۔

شکست کے باوجود رسپیکٹ پارٹی کا اتحاد اس نشست پر گزشتہ انتخابات کی نسبت قریباً چودہ فیصد زائد ووٹ لینے میں کامیاب رہا ہے۔خیال رہے کہ سنہ دو ہزار میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق برمنگھم کےگرین ہال حلقے میں مسلم ووٹرز کی تعداد برطانیہ کے کسی بھی حلقے کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اس حلقے میں مسلمان ووٹرز کا تناسب اڑتالیس فیصد ہے۔

اسی بارے میں