شمالی کوریا مذاکرات بحالی پر’آمادہ‘

کم جونگ ال کا دورۂ چین
Image caption یہ کم جونگ ال کا پانچواں دورۂ چین تھا

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شمالی کوریا اپنا جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے زنہوا کے مطابق یہ بات شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ال نے اپنے دورۂ چین کے دوران کہی ہے۔

کم جونگ ال پیر کو بیجنگ پہنچے تھے اور وہ اب پیانگ یانگ واپس پہنچ چکے ہیں۔ ان کا دورۂ چین خفیہ رکھا گیا تھا اور اس کی تکمیل کے بعد ہی اس کی تصدیق کی گئی ہے۔

زنہوا کے مطابق کم جونگ ال نے چینی صدر ہوجنتاؤ کو بتایا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے ’سازگار ماحول‘ پیدا کرنے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

چین شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت کے خاتمے کے لیے چھ ملکی مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے اور اس میں شمالی و جنوبی کوریا، امریکہ، جاپان اور روس بھی شامل ہیں۔

شمالی کوریا نے اپریل سنہ 2009 میں ان مذاکرات سے اس وقت علیحدگی اختیار کر لی تھی جب ایک میزائل تجربے کے بعد اقوامِ متحدہ نے شمالی کوریا پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

زنہوا کے مطابق کم جونگ ال نے صدر ہو کو بتایا کہ ’شمالی کوریا چھ ملکی بات چیت کے دوبارہ آغاز کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے آپ کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے‘۔

بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیکل برسٹو کا کہنا ہے کہ اگر شمالی کوریائی رہنما کے بیان کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ شمالی کوریا کو اس کے جوہری عزائم ترک کرنے پر راضی کرنا فوری طور پر ممکن نہیں۔

کم جونگ ال کے دورۂ چین کے دوران دونوں ممالک نے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کے نئے منصوبوں پر کام کرنے پر اتفاق بھی کیا ہے۔ کم جونگ ال سے ملاقات کے دوران چین کے وزیراعظم وین جیاباؤ نے کہا ہے کہ’چین ہمیشہ کی طرح شمالی کوریا کی اقتصادی ترقی اور اس کے عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کی کوششوں کا حامی رہے گا‘۔

.یہ کم جونگ ال کا گزشتہ چار برس میں چین کا پہلا اور سنہ 1994 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پانچواں دورہ تھا۔

اسی بارے میں