کنزرویٹیو کے تین مسلم ایم پی منتخب

برطانیہ کی دائیں بازوکی جماعت کنرویٹیو پارٹی کی طرف سے پہلی مرتبہ تین مسلمان ارکان پارلیمان منتخب ہوئے ہیں۔

رحمان چشتی اور ڈیوڈ  کیمرون
Image caption رحمان چشی کنزرویٹیو پارٹی کے رہنما ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ

رحمان چشتی جِلنگھم اور رئنہم سے منتخب ہوئے ہیں جہاں انہیں اکیس ہزار سے زیادہ ووٹ ملے ہیں جبکہ ان کے قریبی حریف لیبر کے امیدوار پال کلارک نے چودہ ہزار نو سو چوالیس ووٹ حاصل کیے ہیں۔ تیس سالہ رحمان چشتی پاکستان میں پیدا ہوئے، لیکن ان کی بیشتر زندگی برطانیہ میں گزری ہے۔ وہ اس سے پہلے لیبر پارٹی کے رکن تھے اور سنہ 2005 کے عام انتخابات میں ہورسھم کے حلقے سے لیبر کے امیدوار تھے لیکن نا کام رہے۔ وہ بیرسٹر ہیں اور پاکستان کی مقتول وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے برطانیہ میں مشیر بھی رہے ہیں۔

Image caption ساجد جاوید کا خاندان بھی پاکستانی نژاد ہے

برومزگروو کے حلقے سے کنزویٹیوز کے امیدوار ساجد جاوید رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ چالیس سالہ ساجد جاوید برطانیہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان پاکستانی نژاد ہے۔ ان کے والد برطانیہ آنے کے بعد بس ڈرائیور کا کام کرتے تھے۔ ساجد جاوید پیشے سے بینکر اور بزنس مین رہے ہیں۔ انہوں نے بھی یہ اکیس ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے یہ نشست واضح اکثریت سے جیتی ہے۔

Image caption ندیم زہاوی کُرد ہیں اور رائے عامہ کے جائمے تیار کرنے والی کمپنی ’یو گوؤ‘ کے سربراہ رہے ہیں

اس کے علاوہ کنزویٹیو کے منتخب ہونے والے تیسرے مسلم رکن ندیم زہاوی کرد ہیں۔ انہوں نے سٹریٹفورڈ اون ایون سے چھبیس ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے یہ نشست جیتی ہے۔ تینتالیس سالہ ندیم زہاوی رائے عامے کے جائزے تیار کرنے والی تنظیم’یو گوؤ‘ کے بانیوں میں سے ایک ہیں اور کمپنی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ وہ مقامی سیاست میں سر گرم رہے ہیں، وانڈزورتھ میں کونسلر تھے اور 1997 کے عام انتخابات میں بھی امیدوار تھے تاہم کامیاب نہ ہو سکے۔

انتخابی نتائج کے مطابق اس پارلیمان میں ایشیائی نژاد کُل سولہ ارکان ہیں جو کہ پچھلے پارلیمان میں ایشیائی نژاد ارکان کی تعداد سے ایک زیادہ ہے۔

انتخابات میں لیبر پارٹی کے سابق وزیر شاہد ملک اپنی نشست نہ بچا سکے اور ان کو بھی کنزویٹیو امیدوار نے ہرا دیا۔ تاہم لیبر کے ارکان صادق خان اور خالد محمود دوبارہ جیت گئے ہیں۔

Image caption لیبر پارٹی کے محمد سرور کے بیٹے آنس سرور

سنہ 1997 میں برطانوی پارلیمان کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان ن محمد سرور کے بیٹے بھی ان انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں۔ وہ اپنے والد کے روایتی حلقے گلاسگو سینٹرل سے الیکشن جیتے ہیں اور دس ہزار سے زیادہ ووٹ کی برتری سے۔ وہ لیبر کے رکن ہیں اور اپنے والد کے جگہ امیدوار بنے۔ ستائیس سالہ آنس سرور ڈینٹسٹ ہیں۔

نئے ارکان پارلیمان میں تین مسلمان خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ برطانوی پارلیمان میں پہلی مسلمان خواتین ہیں اور تینوں کا تعلق لیبر پارٹی سے ہے۔دو پاکستانی نژاد ہیں، شبانہ محمود اور یاسمین قریشی اور تیسری روشن آرا علی بنگلہ دیشی نژاد ہیں اور وہ ایسٹ لندن کے اس حلقے سے جیتی ہیں جہاں پچھلے انتخابات میں جارج گیلو وے جیتے تھے۔

اسی بارے میں