بی این پی تمام نشستوں پر ہار گئی

برطانیہ کے بلدیاتی انتخابات میں قوم پرست جماعت برٹش نیشنل پارٹی مشرقی لندن کی بارکنگ اور ڈیگنھم کونسل سے تمام بارہ کی بارہ نشستیں ہار گئی ہے۔

فائل فوٹو
Image caption پی این پی کے رہنما برکنگ سے پارلیمانی انتخاب بھی ہار گئے تھے

لیبر پارٹی نے انیس واڈز سے فتح حاصل کی ہے اور اب تمام اکاون کونسل سیٹیں اس کے کنڑول میں ہیں۔ اس کے علاوہ لیبر پارٹی برینٹ، کیمڈن، ایلنگ، اینفیلڈ، ہونسلو، ایزلنگٹن، ساوتھ وارک اور ویلتھم فارسٹ میں جیتی ہے۔

لبرل ڈیموکریٹس سوٹون اور کنگسٹن میں جیتی ہے لیکن رچمنڈ میں ٹوری پارٹی سے جس کے پاس نو کونسلز کا کنڑول ہے ہار گئی ہے۔

اس کے علاوہ میٹن اور ریڈ بریج میں کسی کو مکمل کنڑول نہیں ہے۔

بتیس کونسلز کی ایک ہزار آٹھ سو اکسٹھ نشستوں پر چھ ہزار امیدواروں نے حصہ لیا۔ بارکنگ کے بلدیاتی انتخابات میں برٹش نیشنل پارٹی کی شکست پارلیمانی انتخاب میں اس کی شکست کی عکاسی کرتی ہے جہاں لبیر پارٹی کی وزیر مارگریٹ ہوج نے برٹش نیشنل پارٹی کے رہنما نِک گریفن کو سولہ ہزار کی اکثریت سے شکست دی تھی۔

ان انتحابات میں نکِ چھ ہزار چھ سو ووٹ لے کر تیسری پوزیشن پر اور دوسری پوزیشن پر کنزرویٹیو پارٹی کے رہنما تھے۔

لیبر پارٹی کا سنہ انیس سو چونسٹھ سے بارکنگ اور ڈیگنھم کونسل پر کنڑول ہے۔ نیوہم کی تمام ساٹھ نشستوں پر لیبر پارٹی کامیاب رہی ہے۔ کامنز سپیکر جون کی بیوی سیلی برکو ویسٹ منسٹر کونسل میں لیبر پارٹی کے لیے سیٹ جیتنے میں ناکام رہی ہیں۔

اس کے علاوہ تین دوسری کونسل کے مئیر کے انتخاب ہوئے ہیں۔ لیبر پارٹی کے سر روبن ویلز نیوہم کے دوبارہ مئیر منتخب ہو گئے ہیں۔ لیبر پارٹی کے ہی جولز پائپ ہیکنی کی کونسل سے دوبارہ منتخب ہوئے ہیں جبکہ لیبر پارٹی کے ہی سٹیو بلکوک لیوشہم کونسل کے دوبارہ مئیر منتخب ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں