ماسکو میں غیر ملکی فوجی

روس کے دارالحکومت ماسکو میں منعقدہ جنگِ عظیم دوئم میں فتح کی یادگاری پریڈ میں پہلی بار چار نیٹو ممالک کے فوجیوں نے حصہ لیا ہے۔

ماسکو کی پریڈ
Image caption جنگ عظیم میں فتح کی سالگرہ آٹھ مئی کو مغربی اتحادی اور نو مئی کو روس مناتا ہے

اتوار کو یہ پریڈ ماسکو کے ریڈ سکوائر میں منعقد ہوئی جس میں روسی افواج کے ساتھ پہلی بار نیٹو کے رکن ممالک فرانس، برطانیہ، پولینڈ اور امریکہ کی افواج نے حصہ لیا ہے۔

اس پریڈ میں روس کے دس ہزار فوجیوں کے ساتھ ٹینکوں، بیلسٹک میزائلیوں اور ایک سو ستائیس جنگی جہازوں نے حصہ لیا ہے۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گلپن نے بتایا ہے کہ سویت یونین کے خاتمے کے بعد روس کے فوجیوں نے پہلی بار اتنے زیادہ جنگی سازو سامان کے ساتھ پریڈ میں حصہ لیا ہے۔

روس کے صدر دمتری میڈوی ایڈو نے پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جنگی عظیم کا سبق ’ ہمیں باہمی اتفاق کی تلقین‘ کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’امن اب بھی کمزور ہے اور یہ یاد رکھنا ہمارا فرض ہے کہ جنگ فوری طور پر شروع نہیں ہوتی۔۔۔ اور اکٹھے ہونے سے ہی ہم موجود دور کے خطرات سے نمٹنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔‘

Image caption ماسکو کا ریڈ سکوائر جو کبھی سویت یونین کا دل ہوا کرتا تھا وہاں غیر ملکی افواج کی موجودگی ایک بہت بڑا علامتی اظہار ہے

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ماسکو کا ریڈ سکوائر جو کبھی سویت یونین کا دل ہوا کرتا تھا وہاں غیر ملکی افواج کی موجودگی ایک بہت بڑا علامتی اظہار ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرد جنگ کی دشمنی کو ایک طرف کر دیا گیا ہے۔‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس پریڈ میں فرانس کی جانب سے نارمنڈی نائمین سکواڈرن، امریکہ کی جانب سے اٹھاروہویں رجمنٹ کی سکینڈ بٹالین اور پولینڈ کی جانب سے اس کی نیوی، فضائیہ اور بری افواج کے پچہتر اہلکاروں نے شرکت کی ہے۔

پریڈ میں حصہ لینے والے ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اس بات کی بہت خوشی ہے اور اس کی بہت اہمیت ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جن اتحادیوں نے نازی فوج کو شکست دی تھی وہ جنگ عظیم کے خاتمے کی سالگرہ میں ایک ساتھ شرکت کر رہے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی پینسٹھویں سالگرہ کی اس پریڈ میں جرمنی کی اینگلہ مرکل کے ساتھ دنیا کے چوبیس کے قریب اہم رہنماؤں نے شرکت کی ہے۔

پریڈ میں برطانیہ کے کسی سرکردہ رہنما نے شرکت نہیں کی ہے۔ معتبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ برطانیہ نے پرنس چارلس کو تقریب میں بھیجنے کی پیشکش کی تھی لیکن روس نے انکار کر دیا۔

انکار کی وجہ کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ فرانس کے صدر اور اٹلی کے وزیراعظم نے یورو کرنسی کے بحران کے سبب تقریب میں شرکت نہیں کی ہے۔

خیال رہے کہ مغربی اتحادی آٹھ مئی کو جنگ عظیم میں فتح کا دن مناتے ہیں لیکن روس یہ دن نو مئی تو مناتے ہیں جب نازی جرمنی فوج نے سرینڈر کیا تھا۔

اسی بارے میں