ڈیوڈ کیمرون کون ہیں؟

ڈیوڈ کیمرون
Image caption ڈیوڈ کیمرون ملکہ برطانیہ کے دور کے رشتہ دار ہیں

اگرچہ وہ جدیدیت اور تبدیلی کی زبان بولتے ہیں لیکن کئی لحاظ سے برطانیہ کے نئے وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون پرانے کنزرویٹیو رہنماؤں کا تسلسل ہیں۔

نہ صرف یہ کہ وہ برطانیہ کے اعلٰی تعلیمی ادارے ایٹن سے فارغ التحصیل ہیں بلکہ ان کا شجرہ ولیم چہارم سے ملتا ہے۔ اس طرح سے ملکہ برطانیہ کے دور کے رشتہ دار بھی ٹھہرتے ہیں۔

مسٹر کیمرون نے کبھی بھی اپنے متمول پس منظر کو نہیں چھپایا لیکن انہوں نے اپنی ایک دلچسپ اور تازہ شبیہ تراشنے کی کوشش کی ہے۔

تینتالیس سالہ ڈیوڈ کیمرون سن اٹھارہ سو بارہ میں وزیر اعظم بننے والے رابرٹ بینکس جانسن کے بعد برطانوی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے والے سب سے کم عمر شخصیت ہیں۔ سن انیس سو ستانوے میں جب سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا تو وہ عمر میں ڈیوڈ کیمرون سے چھ ماہ بڑے تھے۔

ٹونی بلیئر کی طرح ان کا بھی ایک جوان خاندان ہے اور سیاست کرنے کا ایک غیر رسمی اور اپنے لحاظ سے جدید انداز ہے۔ جب ٹونی بلیئر 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں وارد ہوئے تھے تو ان کے ہاتھ میں گٹار رکھنے والا ڈبہ تھا۔ اب جب ڈیوڈ کیمرون وزیرِاعظم بنے ہیں تو ان کا ہیلمٹ ان کی سائیکل کے ہینڈل کے ساتھ لٹک رہا ہو گا۔

ڈیوڈ کیمرون نے اپنی زندگی کو کسی بھی برطانوی سیاست دان سے زیادہ ٹی وی کیمروں کے سامنے کھول کے رکھا ہے لیکن پھر بھی ان کی زندگی کے کئی پہلو عام لوگوں سے پوشیدہ ہیں۔

اگر ان کے دوستوں سے بات کریں تو وہ انہیں ایک بذلہ سنج اور منکسرالمزاج ’فیملی مین‘ کے طور پر پیش کریں گے جو آکسفرڈ میں اپنےگھر میں اختتام ہفتہِ دعوتیں دینا پسند کرتا ہے۔

لیکن اگر آپ ان لوگوں سے بات کریں جو ان سے کنزویٹیو پارٹی کا رہنما بننے کے بعد ملے ہیں یا جنہوں نے کاروباری لحاظ سے ان کے معاملات کیے ہیں تو وہ آپ کو اس کے بالکل مختلف تصویر پیش کریں گے۔

تو پھر اصلی ڈیوڈ کیمرون کون ہے؟

ڈیوڈ کیمرون نو اکتوبر سن انیس سو چھیاسٹھ کو لندن میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے چار بہن بھائیوں میں سے تیسرے نمبر پر ہیں۔

انہوں نے اپنی زندگی کے پہلے تین سال لندن کے علاقے کینزنگٹن اور چیلسی میں گزارے۔ بعد میں ان کا خاندان برکشائر منتقل ہو گیا۔

ڈیوڈ کیمرون کے والد آئن سٹاک بروکر تھے۔ ان کی ٹانگوں میں پیدائشی طور پر نقص تھا۔ بعد میں پیچیدگی کی وجہ سے ان کی ٹانگیں کاٹ دی گئی تھی اور وہ ایک آنکھ سے بصارت سے بھی محروم ہو گئے تھے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ نہ تو انہوں نے خود کو کبھی اپاہج سمجھا اور نہ ہی کسی بارے میں کوئی شکایت کی۔ ڈیوڈ کیمرون کی والدہ میری تیس سال تک جسٹس فار پیس یعنی مجسٹریٹ رہیں۔

سات سال کی عمر میں ڈیوڈ کیمرون کو ہیتھرڈاؤن پری پریپریٹری سکول میں داخل کرا دیا گیا جہاں سے برطانیہ کے شاہی خاندان سے پرنس ایڈورڈ اور پرنس اینڈریو بھی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ بعد میں خاندانی روایت کے مطابق انہیں ایٹن میں داخل کرا دیا گیا۔

بعد میں ڈیوڈ کیمرون نے آکسفرڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور وہاں سے فلسفہ، سیاسیات اور معاشیات میں ڈگری حاصل کی۔ آکسفرڈ یونیورسٹی میں انہوں نے کبھی بھی سیاست میں حصہ نہیں لیا اور بقول ان کے ایک دوست کے اپنا زیادہ تر وقت ’موج میلے‘ میں گزارہ۔ تاہم وہ اپنی تعلیم سے کبھی بھی غافل نہیں رہے اور آکسفرڈ میں ان کے ٹیوٹر پروفیسر ورنن بوجانر انہیں اپنے قابل ترین شاگردوں میں شمار کرتے ہیں۔

اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کنزرویٹیو پارٹی کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت اختیار کی۔ ریسرچر کے طور پر انہوں نے اس ٹیم میں کام کیا جو سابق وزیر اعظم جان میجر کو ان سے پوچھے گئے سوالات پر بریف کرتی تھی۔ بعد میں وہ چانسلر نارمن لامونلا کے سیاسی مشیر ہو گئے۔ بعد میں وہ اس وقت کے ہوم سیکریٹری مائیکل ہاورڈ کے مشیر بھی رہے۔

بعد میں انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے آئی ٹی وی کی ایک کمپنی کارلٹن میں ملازمت اختیار کر لی اور سات سال تک اس سے منسلک رہے۔

انہوں نے پہلی بار سن انیس سو ستانوے میں الیکشن میں حصہ لیا لیکن سٹیٹفرڈ کی اس نشست سے وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ سن دو ہزار ایک کے الیکشن میں انہیں آکسفرڈ میں وٹنی کی محفوظ نشست سے ٹکٹ دیا گیا جہاں سے وہ کامیاب ہو گئے۔

اس وقت تک ڈیوڈ کیمرون کی شادی بھی ہو چکی تھی۔ ان کی اہلیہ سمنتھا معروف زمیندار سر ریجینالڈ شیفیلڈ کی صاحبزادی ہیں۔ انہوں نے یارکشائر کے قصبے سکنتھوپ کے قریب تین سو ایکٹر کی جاگیر پر پرورش پائی ہے۔ سمنتھا کے سوتیلے بات وسکونٹ آسٹر جان میجر کی حکومت میں اطلاعات کے وزیر تھے۔

سن دو ہزار پانچ میں ٹوری پارٹی کی قیادت سنبھالنے سے پہلے ڈیوڈ کیمرون وسکونٹ آسٹر کے ساتھ لیٹ نائٹ بار چلانے والے کمپنی اُربیئم کے بورڈ کے ڈائریکٹر تھے۔

مسٹر کیمرون کی اہلیہ سمنتھا بانڈ سٹریٹ میں ایک مہنگی سٹیشنری کی دکان سمتھسنز میں آرٹ ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے اپنے خاوند کا ’ٹوری بوائے‘ کا امیج اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

موجودہ انتخابات سے پہلے ان کے قریبی مشیروں کو یہ توقع تھی کہ پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا اور انہیں لِب ڈیم رہنما نِک کلیگ کے ساتھ مخلوط حکومت قائم کرنا پڑی جن کا وہ الیکشن سے پہلے ٹی وی مذاکروں میں حریف کی حیثیت سے مقابلہ کرتے آئے ہیں۔

اسی بارے میں