امریکہ روس جوہری معاہدہ بحال

باراک اوباما
Image caption امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ روس کے ساتھ بہتر رشتے چاہتا ہے

امریکی صدر براک اوباما نے روس کے ساتھ اس جوہری معاہدہ کی بحالی کا اعلان کیا ہے جو سن دو ہزار میں روس اور جارجیا کے درمیان کشیدگی کے وقت ختم ہوگیا تھا۔

صدر اوباما نے معاہدے کو منظوری کے لیے کانگریس کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے تنازعہ پر روس اور امریکہ کا تعاون اس قدم کا جواز پیش کرتا ہے۔

معاہدے کی بحالی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جوہری ٹیکنالوجی، جوہری سازو سامان اور ریئکٹر کی منتقلی ممکن ہو جائے گی۔

کانگریس کو اپنے خط میں صدر اوباما نے کہا ہے کہ ’روس اور امریکہ کا ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر تعاون جوہری معاہدے کے احیاء کے لیے کافی ہے۔‘

امریکہ کے سابق صدر جارج بش اور روس کے سابق صدر ولادیمیر پوتین کے درمیان سن دو ہزار سات میں اس معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ لیکن جورجیا اور روس کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے اس معاہدے کو سینیٹ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا تھا۔

صدر اوباما روس کے ساتھ رشتوں میں بہتری کے خواہاں ہیں جو سابق صدر جارج بش کے دور اقتدار میں تعلقات تلخ ہوگئے تھے۔

اس سے قبل اس برس اپریل میں امریکی صدر براک اوباما اور روسی صدر دمیتری میدویدو نے جوہری ہتھیاروں کو کم کرنے کے تاریخی معاہدے پر پراگ میں دستخط کر دیے ہیں۔

پراگ میں ہونے والے معاہدے کے مطابق سرد جنگ کے یہ دو حریف اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد کو پندرہ سو پچاس تک محدود کرنے کے پابند ہونگے۔ یہ تعداد اس وقت دونوں ممالک کے پاس موجود ہتھیاروں سے تیس فیصد کم ہے۔ معاہدے کے مطابق بھاری بمبار اور بیلِسٹک میزائل جیسے ’لانچروں‘ کی تعداد میں بھی کمی کی جائے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس دو ہزار جوہری ہتھیار ہیں جبکہ روس کے پاس یہ تعداد تین ہزار ہے۔ دنوں ممالک جوہری ہتھیاروں میں کمی کرنے کے متعلق کئی مہینوں سے مذاکرات کر رہے تھے۔

معاہدے کی اب امریکی سینیٹ اور روسی پارلیمان (ڈوما) سے منظوری لازمی ہے۔ یہ نیا معاہدہ جسے ’نیو سٹارٹ‘ کہا جا رہا ہے، تخفیفِ اسلحہ کے 1991 کے معاہدے ’سٹریٹیجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی‘ (سٹارٹ) کا متبادل ہے۔ سٹارٹ کی مدت دسمبر میں پوری ہوگئی تھی۔

گزشتہ سال دونوں ممالک نے اپنے ہتھیاروں کو کم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن ان کی تصدیق پر اختلافات کی وجہ سے یہ معاہدہ نہیں ہو سکا تھا۔

اسی بارے میں