نیویارک سازش:دو پاکستانیوں سمیت تین گرفتار

میساچیوسٹس سےگرفتار شدہ شخص کا تعلق پاکستان سے ہے امریکی حکام نے نیویارک ٹائمزسکوائر میں ناکام کار بم دھماکے کی تحقیقات کے سلسلے میں دو پاکستانی شہریوں سمیت تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں امریکی ریاست نیویارک، نیوجرسی اور میساچیوسٹس کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران عمل میں آئی ہیں۔

فیصل سے تفتیش کے لیے امریکی درخواست

گرفتاریوں کی تصاویر

امریکی کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے تینوں افراد کا تعلق ٹائم سکوائر کے ناکام کار بم دھماکے کے ملزم فیصل شہزاد سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ فیصل شہزاد سے ان کے تعلق کی نوعیت کیا تھی۔

انھوں نے کہا کہ ایک بنیاد جس پر یقین کیا جا سکتا ہے کہ فیصل شہزاد کو انھوں نے مالی وسائل مہیا کیے تھے اور اس کو تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اٹارنی جنرل نے گرفتاریوں کو ایک قابل ذکرقدم قرار دیا ہے۔

محکمۂ انصاف کے ترجمان ڈین بوائڈ کا کہنا ہے کہ تیرہ دن کی تفتیش کے نتیجے میں جو ثبوت جمع ہوئے ہیں، ان کی روشنی میں تلاش کا آغاز کیا گیا ہے۔

Image caption گرفتاری کے بعد ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے ان افراد کے گھروں کی تلاشی لی

امریکی محکمۂ انصاف کے ترجمان نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ کہ ان افراد کو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے دو افراد کو میساچیوسٹس کے شہر بوسٹن کے مضافاتی علاقے سے جبکہ تیسرے کو نیویارک کے علاقے میئن سے گرفتار کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بوسٹن اور میسا چیوسٹس سے گرفتار کیے گئے افراد کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ تیسرے شخص کی شناخت کے بارے میں نہیں بتایاگیا ہے۔

امریکی کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ ٹائم سکوائر بم حملے کے تحقیقات کی روشی میں شمال مشرقی علاقوں کے متعدد مقامات کی تلاشی لی گئی ہے۔ بیان کے مطابق ٹائم سکوائر کے بم حملے کی تفتیش کے نتیجے میں جو ثبوت جمع ہوئے ہیں، ان کی روشنی میں تلاش کا آغاز کیا گیا ہے، اس تلاش کا تعلق عوام کو کسی فوری خطرے یا امریکہ کے خلاف کسی متحرک منصوبے سے نہیں ہے۔

یاد رہے کہ امریکی حکام نے اس سے پہلے پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد کو ٹائمز سکوائر پر کار میں بم نصب کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کر رکھا ہے۔

فیصل شہزاد نے حکام کو بتایا ہے کہ انہوں نے یہ کارروائی تنہا کی تھی اور اس میں ان کے ساتھ کوئی اور شریک نہیں تھا۔ تاہم امریکی تفتیش کاروں نے اس سازش کے پیچھے پاکستانی طالبان اور کشمیری شدت پسند گروہ سے ممکنہ رابطوں کا انکشاف کیا ہے۔

اسی بارے میں