معاوضے کے لیے برٹش پیٹرولیم پر دباؤ

فائل فوٹو
Image caption سمندر میں تیل پھیلنے سے ہزاروں جانور متاثر ہوئے ہیں

خلیج میکسیکو میں تیل کے کنوئیں سے تیل رسنے کے واقعہ پر امریکی صدر باراک اوبامہ نے برطانوی کمپنی برٹش پیٹرولیم پر مزید دباؤ بنانے کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔

انہوں نے امریکی کانگریس کو ایک خط لکھا ہے اور کہا کہ اس سے متعلق قوانین پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکی صدر نے کہا ہے کہ قوانین میں ایسی تبدیلیوں کی ضرورت ہے کہ اگر مستقبل میں تیل رسنے کا اس طرح کا کوئی واقعہ ہو تو اس سے ماحولیات کو جو نقصان پہنچتا ہے مالی طور اس کے لیے برٹش پیٹرولیم کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔ اور اسے پورا نقصان ادا کرنا پڑے۔

موجودہ قوانین کے مطابق اس طرح کی صورت حال میں کسی بھی تیل کمپنی کو زیادہ زیادہ سے پچاس ہزار امریکی ڈالر کا ہرجانہ دینا پڑتا ہے۔ برٹش پیٹرولیم نے اتنی قیمت ادا کرنے کا پہلے ہی اعلان کیا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق امریکہ میں خلیج میکسیکو میں تیل کے کنوئیں سے جو تیل نکلا ہے اس سے ماحولیات کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس میں اربوں ڈالر کا خرچہ ہے اور امریکی حکام اس حوالے سے پورا پیسہ لینے کی بات کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے امریکی حکام برٹش پیٹرولیم کمپنی پر شدید نکتہ چینی کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں