’خوف کی جگہ رونق نے لے لی‘

ہماری پرواز کابل کے ہوائی اڈے پر اتری تو میں نے کھڑکی سے جھانک کر ان تباہ شدہ جہازوں کو دیکھنا چاہا جو ماضی میں کابل ائرپورٹ کی آمد پر مسافروں کا استقبال کیا کرتے تھے۔

میں سنہ دو ہزار دو اور چار کے درمیان جتنی مرتبہ کابل آیا تو ائرپورٹ کا یہ ہی حال تھا۔ جگہ جگہ طیاروں کے جلے ہوئے ڈھانچے پڑے ہوتے۔

لیکن اب یہ بالکل بدل چکا تھا۔

Image caption کابل میں نئی شیشے والی کئی عمارتیں بن گئی ہیں

دیکھا تو ائرپورٹ پر ان تباہ شدہ جہازوں کے کھنڈرات کا نام نشان نہیں تھا، علاقہ بالکل صاف تھا اور نہ صرف یہ بلکہ پورے ہوائی اڈے کی شکل بدل چکی تھی۔

سنہ 2004 تک مسافروں کی دستاویز کی جانچ پڑتال کے لیے ائرپورٹ کی عمارت کے باہر میز لگا کر ایک اکیلا امیگریشن افسر بیٹھا ہوا کرتا تھا۔ یہ واحد افسر پرواز کے تمام مسافروں کے پاسپورٹ اور ویزے چیک کرتا، قطار لمبی ہوتی اور اگر آپ چالاکی سے پرواز سے اترنے کے بعد دوڑ لگا کر آگے نہ نکلتے تو قطار میں انتظار کا وقت طویل ہوتا تھا۔

سامان کے لیے بھی بیگج بیلٹ نہیں ہوتی تھی۔ سامان کو اندر ایک جگہ پھینک دیا جاتا تھا جہاں سے آپ کو خود اسے ڈھونڈ نکالنا ہوتا تھا۔ ٹرالیوں کی سہولت تھی ہی نہیں اور مجھے یاد ہے کہ ہمیں اپنے ٹیکنکل براڈ کاسٹ کا بہت بھاری سامان خود ہی اٹھا کر لے جانا پڑتا تھا۔

لیکن وہ ماضی کا منظر تھا۔

اب دیکھا تو کابل ائرپورٹ پر امیگریشن کے کئی کاؤنٹر بنے ہوئے نظر آئے اور سامان کے لیے ہال میں بیگیج بیلٹ دیکھے، ٹرالیاں دیکھیں۔

کابل میں بم حملوں کا سلسلہ پچھلے ایک سال سے بھی جاری ہے لہذا مجھے اسی تباہ شدہ کابل دیکھنے کی توقع تھی۔ لیکن شہر کی شکل بدل گئی ہے۔ مجھے یقین تھا کہ ائرپورٹ سے نکل ہم اسی شہر میں داخل ہوں گے جس میں خوف کا ماحول حاوی اور جنگ کی فضا قائم تھی۔

Image caption کابل میں خوف و حراس کی فصا نہیں رہی

لیکن ایسا نہ تھا۔ اس مرتبہ کابل میں مجھے وہ ماحول ملا جو بیشتر پُررونق ترقی پذیر ممالک کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ بازاروں میں گہماگہمی، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر بے شمار گاڑیاں اور ٹریفک جام۔

کابل میں سڑکیں نہیں بنی ہیں اور دھول اتنی ہی اٹھتی ہے جتنی ماضی میں لیکن یہاں شیشوں والی اونچی اونچی بہت سی عمارتیں ضرور بن گئی ہیں۔

ہر طرف تعمیراتی کام ہوتا نظر آتا ہے۔ نوے کی دہائی کی جنگ میں تباہ ہونے والے بیشتر علاقوں میں تعمیر نو ہوئی ہے اور شہر میں جگہ جگہ عمارتیں بن رہی ہیں۔

سنہ دو ہزار دو اور چار کے درمیان جب ہم کابل آتے تو شہر میں سینکڑوں غیر ملکی سکیورٹی اہلکار گشت کرتے ہوئے نظر آتے، امریکی، جرمن یا تُرک فوجی گاڑیوں میں مشین گن لگائے ہوئے شہر میں گشت کر رہے ہوتے۔

اب مجھے واضح فرق یہ لگا کہ غیر ملکی اہلکار بہت کم نظر آتے ہیں۔ سرکاری عمارتوں کے باہر اور سڑکوں پر افغان پولیس کے مسلح اہلکار تعینات ہیں غیر ملکی نہیں۔ البتہ شہر میں چیک پوائنٹس اور بیریئر والی پولیس چوکیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

کابل میں مقیم غیر ملکی (زیادہ تر سفارتکار اور این جی او اہلکار) ان چوکیوں اور جگہ جگہ رک کر اس چیکنگ کرانے کے عمل سے سے خاصے پریشان اور خوف زدہ ہیں۔ لیکن یہ خوف اور خدشہ شہر پر حاوی نہیں۔

سنہ دو ہزار چار میں مغرب کے بعد سڑکیں خالی ہوتی تھیں اور شہر خاموش۔ اس مرتبہ شہر میں رونق تھی، مرد، خواتین اور بچے تفریح کے لیے نکلے ہوئے نظر آئے اور ہم رات دیر تک شہر میں گھومتے رہے۔

شاہراہِ نو کی سیر

جب میں نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بتایا تھا کہ میں کابل جا رہا ہوں تو وہ بہت ہی فکرمند ہوئے۔ انہوں نے مجھے بہت محتاط رہنے کی ہدایت کی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ کابل میں کونے کونے پر کوئی طالبان حملہ آور تیاری میں بیٹھا ہوتا ہے اور ہر طرف خطرہ ہی خطرہ ہے۔

Image caption شاہراہِ نو پر مغربی نلبوثات کی دکانیں نظر آتی ہیں

ان لوگوں کے خدشات شاید بین الاقوامی میڈیا میں افغانستان کی خبروں کا نتیجہ تھے کیونکہ افغانستان سے باہر بیٹھ کر آپ ان خبروں سے کابل کا جو تاثر ملتا ہے وہ ایک جنگ زدہ اور ویران شہر کا ہے۔ خبروں میں کبھی یہ نہیں دکھایا جاتا کہ کابل میں زندگی کس طرح چل رہی ہے یا تعمیرِ نو کتنی ہوئی ہے۔

اس کا اندازہ مجھے اس مرتبہ کابل واپس جا کر ہوا۔ مرکزی کابل کی شاہراہِ نو پر جب ہم لوگ نکلتے تو چلنا مشکل تھا۔ یہ سڑکوں کی بری حالت اور گڑھوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کہ سڑکوں پر لوگوں کا ہجوم تھا۔

شاہراہِ نو کا پُررونق منظر بہت اچھا لگا اور اس سے کابل کی خبروں میں دکھائے جانے والے جنگ زدہ شہر کی تصویر سے بالکل مختلف تصویر دکھائی دی۔ یہاں دکانوں پر میوہ، پتیلیاں اور فرائنگ پین سے لے کرگٹار، مغربی ملبوسات اور ایکسرسائز مشینیں تک سجی ہوئی نظر آتی ہیں۔ شیشے والی اونچی عمارتوں میں دفتروں کے اشتہارات دکھائی دیتے ہیں اور کونے کونے سے کباب اور گرم گرم نان پکنے کی خوشبو اٹھتی ہے۔

Image caption شاہراہ نو پر اکسرسائز مشین کی دکانیں بھی ہیں

یہ طالبان اور دھماکوں والے شہر کی تصویر نہیں بلکہ ایسے شہر کی جس کے باسی دیگر مشکلات اور سکیورٹی مسائل کے باوجود زندگی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور خوف سے سہمے نہیں بیٹھے ہیں۔

میں نے کابل کے اس دورے پر اپنے تاثرات کا ذکر بی بی سی کے کچھ ایسے ساتھیوں سے کیا جو پاکستان اور ایران میں طویل مدت کی جلا وطنی گزار کر 2002 کے بعد واپس افغاسنتان آئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے بیشتر رشتہ دار اور دوست یہ ہی سوچ کر واپس آئے تھے کہ ملک میں ٹکنے کا فیصلہ ایک دو سال بعد کریں گے لیکن بقول ان کے اب انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ افغانستان میں ہی رہ کر اپنی زندگیاں بنائیں گے۔