’بلندی پر بسنے کا راز ڈی این اے میں‘

امریکی محققین کا کہنا ہے کہ تبتی باشندوں کی انتہائی بلند علاقوں میں زندگی بسر کی صلاحیت کا راز اُن کے ڈی این اے میں پوشیدہ ہے۔

یونیورسٹی آف یوتھا کے محققین نے تبتی باشندوں کے ڈی این اے میں دس ایسے جینز تلاش کیے ہیں جن نے یہ ثابت ہوا ے کہ تبتی باشندے ایسے بلند علاقوں میں باآسانی زندگی بسر کر سکتے ہیں جہاں دیگر افراد بیمار ہو جاتے ہیں۔

اُن دس میں سے دو جینز کو انسانی جسم میں آکسیجن پہنچانے والے ہومیوگلوبن کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق اس تحقیق سے شدید بلندی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور دیگر بیماریوں کا علاج کرنے میں مدد ملے گی۔ یونیورسٹی آف یوتھا کے پروفیسر جوزف پرکل کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ایسے افراد کا علاج کرنے میں مدد ملے گی جو بلندی پر رہنے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔

یونیورسٹی آف یوتھا سکول آف میڈیسن کے پروفیسر لین جورڈ کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ایسے مریضوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں جو آکسیجن کی شرح کم ہو جانے کے باعث اس صورتحال کا سامنا کرتے ہیں۔

اُن کے مطابق اس صورتحال کی وجہ سے دماغ اور پھیپھڑوں میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں جس سے تندرست کوہ پیما بھی بیمار ہو سکتے ہیں۔