راکھ: برطانیہ کے دو مصروف ائر پورٹس بند

آئس لینڈ کے آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ کی وجہ سے برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے مصروف ترین ہیتھرو اور گیٹ وکِ ائر پورٹس بند کر دیے گئے ہیں۔

برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا کہ راکھ کے شمال کی جانب مزید بڑھنے کی وجہ سے برطانیہ کے معیاری وقت کے مطابق پیر کی صبح سات بجے تک دونوں ائر پورٹ بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کارڈیف کا ائر پورٹ کھلا رہے گا لیکن راکھ کے بادلوں کی وجہ سے محدود پروازوں کی اجازت ہو گی۔

یورو کنڑول کا کہنا ہے کہ سات بجے کے بعد ہو سکتا ہے کہ دونوں ائر پورٹس سے کچھ پروازیں بحال ہو جائیں۔

ہفتے کے آغاز پر ہوائی اڈے بند ہونے کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکام نے مسافروں سے کہا ہے کہ وہ گھر سے نکلنے سے قبل اپنی فضائی کمپنی سے رابطہ کر لیں۔

شمال کی جانب فضائی پابندی ختم ہونے کے بعد لیور پول اور لیڈز بریڈ فورڈ کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ برطانیہ کے دوسرے شہروں برمنگھم، نوروچ اور مشرقی میڈ لینڈ کے ہوائی اڈوں کو بھی دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ ان کو اتوار کے روز بند کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ شمالی آئر لینڈ اور سکاٹ لینڈ کے بغص علاقوں میں بھی فضائی ٹریفک معطل ہے۔

ڈچ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے اوپر سے راکھ کے بادل گزرنے کے اشارے ملے ہیں جس کی وجہ سے ایمسٹرڈیم اور روٹرڈیم کے ہوائی اڈے کم از کم آٹھ گھنٹوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔

اس سے پہلے اتوار کو آئس لینڈ کے آتش فشاں سے نکلنے والے راکھ آلود بادلوں کی وجہ سے شمالی آئرلینڈ کے متعدد علاقوں کو ایک بار پھر نو فلائی زون قرار دے دیا گیا تھا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پروازوں پر پابندی کا یہ فیصلہ شمال مغربی برطانیہ کی جانب بڑھتے راکھ کے بادلوں کو دیکھ کر کیا تھا۔

اتوار کو موسمیاتی دفتر کے مطابق اس وقت راکھ کا بادل پچیس ہزار فٹ کی بلندی پر موجود ہے جبکہ ہوا شمال مغرب کی جانب سے چل رہی ہے۔

برطانوی محکمۂ موسمیات کی ترجمان کے مطابق ہوا کا رخ آئندہ ہفتے کے وسط میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے بعد راکھ آلود بادل برطانوی فضا سے نکل جائے گا۔

واضح رہے کہ آئس لینڈ کے آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ نے اپریل سے ہزاروں پروازوں کو متاثر کیا ہے۔ اسی راکھ کی وجہ سے اپریل میں یورپی ائر سپیس پانچ دن کے لیے بند رہی تھی جس سے نہ صرف لاکھوں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا بلکہ فضائی کمپنیوں کو بھی کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

اسی بارے میں