آخری وقت اشاعت:  پير 17 مئ 2010 ,‭ 11:42 GMT 16:42 PST

تھائی مظاہرین کیمپ خالی کرنے سے انکاری

تھائی لینڈ کے داراالحکومت بینکاک میں حکومت مخالف مظاہرین نے حکومتی تنبیہ کے باوجود احتجاجی کیمپ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔

تھائی حکومت نے پیر کی دوپہر تک سرخ پوش مظاہرین کا کیمپ چھوڑ کر جانے والے افراد کو محفوظ راستہ دینے کی پیشکش کی تھی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ اس ڈیڈ لائن کے گزرنے کے اب حکومت کی حکمتِ عملی کیا ہوگی۔

ڈیڈ لائن کے خاتمے کے باوجود مظاہرین جن میں سے بیشتر خواتین تھیں، اپنے کیمپ کے وسط میں بنائے گئے سٹیج پر چڑھ کر نعرے بازی کرتے رہے۔

تھائی وزیراعظم نے پیر اور منگل کو چھٹی کا اعلان کیا ہے جبکہ نئے تعلیمی سال کے آغاز میں پہلے ہی ایک ہفتے کی تاخیر کی جا چکی ہے۔ تاہم بینکاک میں کرفیو لگانے کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

ادھر تھائی لینڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بینکاک میں جاری مظاہروں کے دوران زخمی ہونے والے معطل جنرل کھٹیا سوادیپول انتقال کر گئے ہیں۔جنرل کھٹیا جمعرات کو روز قبل سر پر گولی لگنے سے زخمی ہو گئے تھے۔

جنرل کھٹیا کو جو سہ ڈینگ یا ریڈ کمانڈر کے نام سے مقبول تھے،گولی اس وقت لگی تھی جب وہ ایک نامہ نگار کو انٹرویو دے رہے تھے۔انہیں شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

جنرل کھٹیا کا تعلق سرخ پوش مظاہرین کے سخت گیر گروہ سے تھا اور وہ خود کو سرخ پوش فوج کی حکمت عملی طے کرنے والے کہتے تھے۔ ان کی ہلاکت پر مظاہرین کے کیمپ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

تھائی حکام کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے تحت مذاکرات کی پیشکش رد کیے جانے کے بعد سرخ پوش مظاہرین اور فوج کے درمیان تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان جھڑپوں کے دوران مظاہرین کے کیمپ کے باہر شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

جنرل کھٹیا کے زخمی ہونے کے بعد شروع ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں جمعرات سے اب تک چھتیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ہونے والی جھڑپوں میں پہلی مرتبہ ایک سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے۔ ان ہلاکتوں کے علاوہ جھڑپوں میں دو سو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مظاہرین کے کیمپ سے فوجیوں پر پتھر اور پیٹرول بم پھینکے جا رہے ہیں جبکہ فوجی نشانہ بناز ریت کی بوریوں سے بنے مورچوں سے فائرنگ کر رہے ہیں۔ تھائی حکومت کے ترجمان پنیتن واتانیاگورن کا کہنا ہے کہ فوجی ’عام شہریوں پر ہتھیار استعمال نہیں کر رہے بلکہ مظاہرین کے درمیان موجود مسلح دہشتگردوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے‘۔

تھائی حکومت نے مزید مظاہرین کی دارالحکومت آمد روکنے کے لیے ملک کے بائیس صوبوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ ان صوبوں میں سے بیشتر شمالی تھائی لینڈ میں واقع ہیں جو سرخ پوش مظاہرین کا مرکز ہے۔

مظاہرین

مظاہرین کو کیمپ چھوڑ کر جانے کے لیے پیر کی دوپہر تک مہلت دی گئی ہے

تھائی حکام کے مطابق رواں برس مارچ سے شروع ہونے والے ان مظاہروں کے دوران اب تک ساٹھ سے زائد افراد ہلاک اور سولہ سو زخمی ہو چکے ہیں۔ خیال رہے کہ سرخ پوش مظاہرین وزیراعظم ابھیشت ویجاجیوا کے استعفے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ حکام نے مظاہرین سے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔