جمیکا:’قانون کی عملداری بحال ہوگی‘

ویسٹ انڈیز کے جزیرہ جمیکا کے وزیراعظم نے دارالحکومت کنگسٹن میں انسدادِ منشیات مہم کے دوران کم از کم اکتیس افراد کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے غیر قانونی ہتھیاروں کی تلاش اور مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم بروس گولڈنگ کا کہنا ہے کہ حکومت کو سکیورٹی فورسز کے جوانوں اور فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ پولیس امریکہ کو مطلوب اس سمگلر اور اس کے زیرِ اثر علاقے میں غیر قانونی اسلحے اور مشتبہ مجرموں کی تلاش جاری رکھے گی۔

کِنگسٹن میں سکیورٹی افواج اور منشیات کے مبینہ سمگلر کے محافظوں کے درمیان جاری شدید جھڑپوں میں اب تک ہلاکتوں کی متضاد تعداد سامنے آ رہی ہے اور یہ تعداد اکتیس سے ساٹھ کے درمیان بتائی جا رہی ہے تاہم ہلاک شدگان میں سے اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

تازہ لڑائی سکیورٹی افواج کی کرسٹوفر کوک کے زیرِ اثر علاقے میں داخل ہونے کی کارروائی سے شروع ہوئی تھی۔ اس کارروائی کے دوران فوج اور پولیس نے ٹیولی گارڈنز کے علاقے پر دھاوا بولا۔پولیس نے اتوار کی شام سے کرسٹوفر کوک کے گڑھ میں داخل ہونے کی کارروائی شروع کی تھی اور منگل کو وہ اس میں کامیاب ہوگئے۔

Image caption ٹیولی گارڈنز میں جھڑپوں کے دوران ہلاک ہونے والوں میں چھبیس شہری شامل ہیں

پولیس حکام کے بیان کے مطابق ٹیولی گارڈنز میں جھڑپوں کے دوران ہلاک ہونے والوں میں چھبیس شہری شامل ہیں جبکہ دو شہریوں کو کنگسٹن سے چودہ میل دو سپینش ٹاؤن کے علاقے میں کرسٹوفر کوک کے مبینہ حامیوں نے ہلاک کیا ہے۔ اتوار سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک تین سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق سکیورٹی اداروں کی کارروائی کے دوران سات اہلکار اور پچیس شہری زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ چھ خواتین سمیت دو سو گیارہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ ان میں کرسٹوفر کوک بھی ہیں یا نہیں۔

ادھر ہسپتال ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ منگل کو جمیکا کے مرکزی ہسپتالوں میں سے ایک کے مردہ خانے میں ساٹھ لاشیں لائی گئی ہیں۔

کنگسٹن میں یہ جھڑپیں اور احتجاج جمیکا کے وزیراعظم کے اس بیان کے بعد شروع ہوئی تھیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ کرسٹوفر کوک کو منشیات اور اسلحہ کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہونے کے مقدمات میں امریکہ کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔

Image caption جمیکن حکومت کرسٹوفر کوک کو امریکی حکومت کے حوالے کرنے کےلیے تیار ہے

امریکہ کا کہنا ہے کہ کرسٹوفر کوک ایک انتہائی خطرناک منشیات سمگلر ہیں اور وہ بین الاقوامی سطح پر کام کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے جمیکا کی حکومت امریکی درخواست کی مخالفت کرتی رہی تھی اور وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امریکہ نے کوک کے خلاف شواہد غیر قانونی طریقے یعنی ٹیلی فون انٹرسیپٹ کے ذریعے حاصل کیے تھے۔

مطلوب شخص اکتالیس سالہ کرسٹوفر کوک کا گڑھ شہر کے غریب علاقے ٹیولی گارڈنز میں واقع ہے۔ اس علاقے میں ان کا بہت اثر و رسوخ ہے اور وہ اپنے آپ کو ایک ’کمیونٹی رہنما‘ کہتے ہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت سے زیادہ کوک ان کی مدد کرتے ہیں۔

یہ علاقہ وزیر اعظم بروس گولڈنگ کے حلقہ انتخاب میں ہے لیکن مقامی افراد کہتے ہیں کہ ’اگر آپ کو مدد کی ضرورت ہو تو آپ کو کسی سیاستدان سے مدد نہیں ملے گی، بروس گولڈنگ تو آپ کو کہیں نہیں ملے گا، لیکن آپ ڈاس (کوک) کے پاس جا سکتے ہیں اور وہ آپ کی مدد کرے گا۔‘

مقامی افراد کوک کی سرپرستی کے بارے میں کہتے ہیں کہ چاہے تدفین کے لیے رقم ہو یا بچے کا سکول میں داخلہ، کوک ان کی مدد کرتے ہیں۔

اسی بارے میں