شمالی کوریا جہاز ڈبونے کی ذمہ داری قبول کرے

جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور جبوبی کوریا اس بات پر متفق ہیں کہ شمالی کوریا کو جنوبی کوریا کے بحری جنگی جہاز کو ڈبونے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

جنوبی کوریا کے وزیر نے یہ بیان سیئول میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے ملاقات کرنے کے بعد دیا ہے۔

ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے اس سال مارچ میں جنوبی کوریا کا بحری جہاز تباہ کرنے عالمی برادری کو سخت مگر سوچ سمجھ کر ردعمل ظاہر کرنا چاہیے۔

انھوں نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کو اپنا جارحانہ رویہ ترک کر دینا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ اس کے رہنما کیا فیصلے کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا کو جوابدہ بنانے کے لیے امریکہ مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ روز جنوبی کوریا نے کہا تھا کہ وہ شمالی کوریا سے اپنے تمام تر تعلقات منقطع کر رہا ہے۔

اس سال مارچ میں شمالی کوریا نے مبینہ طور پر جنوبی کوریا کا ایک بحری جنگی جہاز تباہ کر دیا تھا جس جنوبی کوریا کے چھیالیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن جزیرہ نما کوریا کی بحرانی صورتحال کے تناظر میں جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول پہنچ گئی ہیں۔

وہ اس دورے کے دوران جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ باک اور وزیرِ خارجہ یو میونگ ہوان سے ملاقاتیں کریں گی۔

سیؤل روانگی سے قبل ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور چین ملک کر کوریائی بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ اپنے دو روزہ دورۂ چین کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ جزیرہ نما کوریا میں قیامِ امن اور سیاسی استحکام کے لیے چین سے زیادہ فکرمند ملک کوئی نہیں ہے۔

کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ طور پر چلائے جانے والے ایک کارخانے کے جنوبی کوریائی عملے کو بھی ملک چھوڑنے کو کہہ رہا ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے یہ اقدامات اس بین الاقوامی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد اٹھائے گئے ہیں جس میں شمالی کوریا پر جنوبی کوریا کے جنگی بحری جہاز کو ڈبونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا اس الزام سے انکار کرتا ہے۔ چھبیس مارچ کو ہونے والے اس حملے میں جنوبی کوریا کی بحریہ کے چھیالیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ اس واقعے پر مشترکہ عالمی ردعمل کا خواہاں ہے۔

کے سی این اے کی اطلاعات کے مطابق منگل کو شمالی کوریا نے رابطے کے تمام ذرائع منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ جنوبی کوریا کے بحری اور ہوائی جہازوں کو بھی شمالی کوریا کی سمندری یا فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

خیال رہے کہ پیر کو جنوبی کوریا نے شمالی کوریا سے تجارتی تعلقات معطل کرنے اور اپنی سمندری حدود میں شمالی کوریا کے جہازوں کی آمد پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر اپنی سمندری حدود کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ شمالی کوریا کے سرکاری ٹی وی پر کہا گیا ہے کہ ’جنوبی کوریا کے کٹھ پتلی عکسری گروہ ہمارے پانیوں میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے اور انہوں نے متعدد اشتعال انگیز حرکات کیں۔ اگر جان بوجھ کر اشتعال انگیز حرکات جاری رہیں تو شمالی کوریا اپنے پانیوں کی حفاظت کے لیے بھرپور عسکری قوت استعمال کرے گا‘۔

خیال رہے کہ سنہ 1953 کے بعد سے تکنیکی طور پر شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان جنگ جاری ہے اور نامہ نگاروں کے مطابق جہاں چند برس قبل ان دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی تھی وہاں اب ان دونوں ممالک کے تعلقات ایک مرتبہ پھر خرابی کی آخری حد کو چھونے لگے ہیں۔

اسی بارے میں