’پاکستانی طالبان کا افغان صوبےنورستان پر حملہ‘

پاکستان سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں طالبان نے افغانستان کے مشرقی سرحدی صوبے نورستان پر حملہ کر دیا ہے اور مقامی حکام کے مطابق صوبے میں شدید لڑائی جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان طالبان کمانڈر مولانا فضل اللہ کی قیادت میں تین سو کے قریب طالبان نے صوبے نورستان کے ضلع برگ متال ڈسٹرک میں سوموار کو داخل ہوئے تھے۔

افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق طالبان سے لڑائی میں سات طالبان اور تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئِے ہیں۔

فضل اللہ جنھوں نے سنہ دو ہزار آٹھ میں سوات میں سر کشوں کی سربراہی کی تھی، بہت بڑے فوجی آپریشن کی وجہ سے چھپے ہوئے تھے۔ تاہم کچھ ماہ پہلے کی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ اپنے طرف داروں کے ساتھ چپکے سے افغانستان چلےگئے تھے۔

صوبہ نورستان کے گورنر جمال الدین بدر نے بتایا کہ ہلاک شدہ جنگجوؤں سے قبضے میں لیے جانے والے ہتھیاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہنگری میں بنائے گئے تھے اور یہ ہتھیار اسی طرح کے ہیں جیسے کہ افغان سکیورٹی افواج کے پاس ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ سابق صوبائی اہلکاروں نے یہ ہتھیار فروخت کر دیے تھے۔

نورستان پولیس کا کہنا ہے کہ دو سو پچاس مقامی نوجوان پولیس کے ہم رکاب ہو کر حملہ آوروں سے لڑے۔ انھوں نے وزارتِ داخلہ سے درخواست کی کہ دور افتادہ علاقوں میں عالمی فوج اور ہتھیار روانہ کریں۔

دریں اثناء بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کی تربیت دے رہی ہے۔

تنظیم کے مطابق اس تربیتی پروگرام کے تحت صرف گزشتہ ماہ کے دوران ستّر طالبان نے یہ تربیت حاصل کی ہے۔

ریڈ کراس کے مطابق افغانستان میں جنگ اور سڑکوں کی بندش کی وجہ سے بہت سے زخمی یا بیمار افغان باشندے ہسپتال نہیں پہنچ پاتے اور اسی لیے ادارے نے ان افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کی تربیت دینے کا فیصلہ کیا ہے جو اس جنگ میں براہِ راست ملوث ہیں۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق ریڈ کراس کے اس تربیتی پروگرام پر تبصرہ کرتے ہوئے کابل میں نیٹو کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’نیٹو آئی سی آر سی کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ہم یہ بات جانتے ہیں کہ یہ کام غیر جانبدارانہ طور پر کیا جانا ضروری ہے‘۔

خیال رہے کہ ریڈ کراس کے کارکن سو سے زائد افغان سکیورٹی اہلکاروں کو پہلے ہی یہ تربیت دے چکے ہیں جبکہ افغان صوبے ہلمند اور قندھار میں نجی گاڑیوں کو بطور ایمبولنس چلانے والے افراد بھی اس تربیتی پروگرام سے مستفید ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں