امریکہ: بنیاد پرست سوچ کی مقبولیت

دائیں بازو کی سوچ کی مقبولیت

ٹیکساس کے طلباء
Image caption ٹیکساس کے اس نصاب پر امریکہ کے انسانی حقوق اور نسلی برابری کے ادارے سخت نالاں ہیں۔

پہلے ایریزونا اب ٹیکساس اور دیکھا دیکھی بیس مزید ریاستیں۔ امریکہ کو کیا ہوگیا ہے، کہاں جا رہا ہے اور کیوں؟

گو ملک میں ڈیموکریٹ براک اوباما کی حکومت ہے لیکن ملک کی ریاستیں جس تیزی سے انتہائی دائیں بازو کی سوچ کی جانب بڑھ رہی ہیں اس سے ملک کے آزاد اور لبرل سوچ رکھنے والے لوگ مخمصے میں پڑ گئے ہیں۔

چند دن پہلے ریاست ٹیکساس کے سرکاری سکولوں کا نصاب ترتیب دینے والے سکولز بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ اگلے دس برس کے نصاب میں طالب علموں کو یہ بھی پڑھانے کی سفارش کی جائے گی کہ غلامی کی کیا اچھائیاں تھیں اور غلاموں کے بیوپار کے امریکی معاشرے پر کیا مثبت اثرات مرتب ہوئے تھے؟

نئے نصاب میں یہ بھی پڑھایا جائے گا کہ اقوام متحدہ امریکہ کی آزادی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور امریکہ کے بانی شاید ریاست اور کلیسا کو مکمل طور پر ایک دوسرے الگ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔

انسانی حقوق کی ایک کارکن وینڈی جانسن کا کہنا ہے کہ اس طالب علموں کے اسباق میں اس طرح کی باتیں شامل کرنا قرون وسطیٰ کی یاد دلاتے ہیں۔ نقادوں کے مطابق یہ تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے مترادف ہے اور ان کے پس منظر میں وہ نظریات ہیں جن پر امریکہ کے کچھ لوگ یقین رکھتے ہیں۔

امریکہ کے انتہائی دائیں بازو کے لوگوں نے چوری چھپے مذہب کو نصاب میں ڈالنے کی کوششیں ایک بار پھر شروع کر دی ہیں۔

بعض کنزرویٹو تو صدر براک اوباما سے متعلق سبق میں یہ بھی ڈلوانا چاہتے تھے کہ ان کا پورا نام یعنی براک حسین اوباما استعمال کیا جائے لیکن ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت کی کہ جب باقی صدور میں سے کسی کا درمیانی (مڈل) نام نہیں استعمال کیا جاتا تو براک اوباما کا کیوں؟ آخر لمبی بحث کے بعد فیصلہ درمیانی نام استعمال نہ کرنے کے حق میں ہوا۔

امریکی ریاستوں میں عموماً سرکاری سکولوں کا نصاب ترتیب دینے والے بورڈ کا انتخاب بھی ایسے عام لوگ کرتے ہیں جن کے بچے سرکاری اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ امریکہ سیاسی لحاظ سے اس قدر منقسم ہوگیا ہے کہ اب اس بورڈ کے ارکان کا انتخاب بھی سیاسی بنیادوں پر ہوا ہے اور ٹیکساس میں بورڈ کے بیشتر ارکان ریپبلکن کے قدامت پسندانہ نظریات رکھتے ہیں۔

اس بورڈ میں ایک ایسا عیسائی بنیاد پرست بھی ہے جو کہتا ہے کہ وہ امریکہ کی اخلاقی روح کے لیے جنگ لڑ رہا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ بچوں کو پڑھایا جائے کہ عیسائیت کی وجہ سے امریکہ وجود میں آیا اور سارے اختیارات خدا کے پاس ہیں اور حکومت صرف انسانوں کے ان حقوق کی حفاظت کے لیے ہے جو خدا نے انہیں دیے ہیں۔

کمال حیرت کی بات ہے کہ بنیاد پرست چاہے امریکہ کے ہوں، پاکستان کے ہوں یا دنیا کے کسی دوسرے ملک کے، ان میں بڑی ہم آہنگی ہے۔ وہ سب لگ بھگ ایک جیسے نظریات رکھتے ہیں۔

مثال کے طور پر اس سکول بورڈ کے ایک رکن ریورنڈ پیٹر مارشل کو ہی لے لیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کی ویتنام میں شکست اور سمندری طوفان کترینا کی وجہ ملک میں جنسی بے راہ روی اور ہم جنس پرستی پر خدا کی جانب سے سزا ہے۔

مجھے یاد آیا کہ بالکل اسی نوعیت کے خیالات بعض پاکستانی ملاؤں کے پاکستان میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے متعلق بھی تھے اور حال میں ہیٹی میں بھی ایک فنڈو نے اسی قسم کی بات کی ہے۔

تارکین وطن کا قانون

Image caption امریکی صدر نے بھی تارکینِ وطن کے قانون کو ’غلط سمت’ کا قانون قرار دیا ہے۔

چند ہفتے قبل، ایریزونا ریاست کی خاتون گورنر نے غیرقانونی تارکین وطن کے بارے میں ایک نئے قانون کو نافذ کیا ہے جس کے تحت پولیس اگر کسی شخص یا گروپ کو شبہ کی بنیاد پر روکتی ہے تو ان سے ان کی امریکہ میں موجودگی کی قانونی حیثیت کے بارے میں بھی تفتیش کرے گی۔

امریکہ کی کسی بھی ریاست میں اپنی نوعیت کا یہ واحد قانون ہے اور صدر براک اوباما نے اس پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’غلط سمت’ کا قانون قرار دیا ہے لیکن اس قانون کے حامیوں نے ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد پر قابو پانے کے لیے اس نئے قانون کو انتہائی ضروری قرار بتایا ہے۔

ایریزونا ریاست کی خاصی لمبی سرحد میکسیکو سے ملتی ہے اور امریکہ آنے والے بیشتر غیرقانونی تارکین وطن اسی سرحد کو استعمال کرتے ہیں۔ براک اوباما کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس قانون سے غیرقانونی تارکین وطن کی آمد تو شاید نہں رکے گی لیکن اس سے پولیس اور لوگوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگی اور امکان ہے کہ جرائم میں بھی اضافہ ہوگا۔

چھبیس مئی کو ایریزونا کے دارالحکومت فینکس سمیت ملک کے کئی شہروں کے پولیس سربراہوں نے امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر سے ملاقات کی اور ایریزونا کے نئے قانون پر ان سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ پولیس حکام کو خدشہ ہے کہ اس قانون سے امریکہ کی ہسپانوی بولنے والی آبادی اور پولیس کے درمیان اس اعتماد کو نقصان پہنچے گا جسے ان کے بقول قائم کرنے میں پولیس کو برسوں لگے ہیں۔

ادھر صدر اوباما نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے جنوب مشرقی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے پانچ سو ملین ڈالر کی مزید رقم کی منظوری کی کانگریس کو درخواست کی جائے گی۔ اوباما کا منصوبہ ہے کہ ان سرحدوں پر بارہ سو نیشنل گارڈ تعینات کیے جائیں تاکہ وہاں سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو روکا جاسکے۔

لیکن اس متنازعہ قانون کا معاملہ صرف ایریزونا تک ختم نہیں ہوتا بلکہ کوئی بیس کے قریب دیگر ریاستیں بھی اسی نوعیت کے قوانین منظور کرنے کے لیے سوچ بچار کر رہی ہیں۔تقریباً یہ تمام ریاستیں وہ ہیں جو امریکہ کے وسط میں واقع ہیں اور روایتی طور پر قدامت پسند رپبلکن تصور کی جاتی ہیں۔

لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قدامت پسند امریکی، امریکہ کی آزادی، کھلی منڈی اور سفری آزادیوں کے نظریات کے سب سے زیادہ حامی رہے ہیں لیکن اب ان کی سوچ پر دائیں بازو کے کٹر اور تارکین وطن مخالف نظریات کا غلبہ ہوتا جارہا ہے۔

واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک کے لیے کام کرنے والے سٹیفن سٹون کا کہنا ہے کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی اسلامی شدت پسندی اور امریکہ مخالف سوچ کے ردعمل میں امریکی بھی شدت پسند نظریات کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول یہ رجحان انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ یہی تو شدت پسند چاہتے ہیں کہ امریکہ اور باقی دنیا بھی اسی طرح ردعمل کرے جس طرح شدت پسند ان سے چاہتے ہیں۔’امریکہ میں اس قسم کے نظریات میں اضافے سے خدشہ ہے کہ مذاہب کے درمیان تصادم کا مفروضہ کہیں حقیقت نہ بن جائے‘۔

اسی بارے میں