’طاقت کے استعمال کا طریقہ بدلنا ہوگا‘

پالیسی میں امریکہ کے اندر شدت پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے اوباما انتظامیہ نے اپنی طویل مدتی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں ماضی کی حکومت کے برعکس جنگ اور لڑائی پر کم اور سفارتکاری اور ترقی پر زیادہ زور دیا ہے۔

باون صفحات کی اس حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے سفارتکاری پر سب سے زیادہ زور دیا جائے گا اور جنگ بالکل آخری حل ہوگا۔

یہ سوچ سن دو ہزار دو میں بش انتظامیہ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی سے قطعی مختلف ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کسی بھی ملک پر خود کو خطرے کے پیش نظر حملہ کر سکتا ہے اور جس کو ’پروینٹو سٹرائیک‘ کا نام دیا گیا تھا۔

اوباما انتظامیہ کی قومی سلامتی کی دستاویز کے مطابق امریکی حکومت سمجھتی ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کو جوہری پھیلاؤ، القاعدہ، معاشی ابتری اور ماحولیات کی تباہی سے خطرہ ہے۔ اس نئی سکیورٹی پالیسی میں القاعدہ کے مکمل خاتمے کی خواہش کے اظہار کے ساتھ ساتھ امریکہ کے اندر شدت پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

نئی حکمتِ عملی کے تحت ایران اور شمالی کوریا کو اپنے جوہری پروگرام کے سلسلے میں بہت واضح طور پر دو راستوں میں سے ایک راستے کا انتخاب کرنے کی پیشکش بھی کی گئی ہے جبکہ پالیسی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ باہمی مفادات کے معاملات میں چین اور بھارت کے ساتھ مل کر کام کرے گا، تاہم بیجنگ کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت پر بھی نظر رکھی جائے گی۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جاوید سومرو کے مطابق نئی پالیسی کے چیدہ چیدہ نکات پر بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ ’ہم کم طاقتور نہیں ہیں لیکن ہمیں اپنی طاقت کو مختلف طریقے سے استعمال کرنا ہوگا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم طاقت کے براہِ راست استعمال کی پالیسی سے ہٹ کر اب اسے زیادہ بہتر طریقے سے بالواسطہ طور پر دباؤ کے ہمراہ استعمال کریں گے‘۔

ہیلری کلنٹن نے کہا کہ روس، چین اور انڈیا وغیرہ دنیا کی ابھرتی طاقتیں ہیں اور امریکہ چاہتا ہے کہ عالمی مسئلوں کو شراکت کے ساتہ حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’دنیا میں کوئی ملک اکیلے ان چیلنجوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور امریکہ کے بغیر بھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا‘۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’یہ دنیا ملٹی پولر سے ملٹی پارٹنرز میں تبدیل ہورہی ہے اور اس دنیا میں دہشت گردی سے لیکر معاشی مسائل کے حل کے لیے پارٹنرز کی ضرورت ہے‘۔

اس حکمت عملی میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ چونکہ امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے اقدامات کی وجہ سے القاعدہ کو خاصا نقصان پہنچا ہے اس لیے وہ بڑا اور پیچیدہ حملہ کرنے کے قابل نہیں رہی لیکن وہ امریکہ کے خلاف سادہ اور چھوٹے حملے کرنے کے لئے نئی طرح کے دہشت گرد استمعال کرنے کی کوشش کر رہی ہے خاص طور پر ایسے افراد کو جو امریکہ کے ہی شہری ہیں۔ اس اندرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں یہ سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ معصوم لوگوں کو قتل کرنا اسلامی نہیں۔

صدر اوباما کے مشیر جان برنن کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ کے اندر شدت پسندی کے خطرے کو اجاگر کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جمعرات کو متعارف کرائی گئی دستاویز میں ملک کے اندر موجود شدت پسند عناصر سے درپیش خطرے کو واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

Image caption ہمیں اپنی طاقت کو مختلف طریقے سے استعمال کرنا ہوگا:ہلیری کلنٹن

یہ معاملہ گزشتہ سال فورٹ ہُڈ میں ہونے والی فائرنگ اور نیویارک کے ٹائم سکوائر پر دھماکہ کرنے کی کوشش کے بعد سے اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بنا ہوا ہے اور اس سے پہلے اس کا کبھی بھی دہشت گردی سے متعلق امریکی پالیسی میں واضح طور پر ذکر نہیں کیا گیا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدور قومی سلامتی سے متعلق اپنی حکمت عملی میں امریکیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنے مقاصد اور ترجیحات کا تعین کرتے رہے ہیں۔ تاہم صدر بِل کلنٹن نے تین سال پہلے اوکلاہاما بم حملے کے باوجود دہشت گردی سے متعلق سن انیس سو اٹھاسی میں جاری ہونے والی پالیسی میں اندرونی دہشت گردی کا ذکر تک نہیں کیا تھا جبکہ صدر بش نے بھی سن دو ہزار چھ میں جاری ہونے والی پالیسی میں اس کا صرف سرسری ذکر کیا تھا۔

واشنگٹن کے سیاسی تجزیہ نگاروں نے اس نئی حکمت عملی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق کافی مختلف ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے بقول اوباما عملآ اب تک گوانتانامو بے کے قید خانے کو بند نہیں کر سکے اور امریکہ کی جانب سے پاکستان اور افغانستان پر ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ وہ یہ سوال بھی پوچھ رہے ہیں کہ ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ اگر امریکہ کی سفارتکاری کامیاب نہیں ہوئی تو پھر اوباما انتظامیہ کی کیا حکمت عملی ہوگی۔

اسی بارے میں