’انصاف سیاست کی بھینٹ چڑھ رہا ہے‘

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ امریکہ، روس اور چین سمیت دنیا کے کئی طاقتور ممالک انسانی حقوق کے معاملات میں خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں اور وہ عالمی انصاف کی فراہمی کی راہ میں حائل ہیں۔

یہ بات دنیا بھر میں حقوقِ انسانی کی صورتحال پر تنظیم کی سالانہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں ایک سو انسٹھ ممالک کے نام دیے گئے ہیں جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔

رپورٹ میں ایمنٹسی انٹر نیشنل نے طاقتور ممالک پر الزام لگایا ہے کہ وہ انصاف کی فراہمی پر اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنے اتحادیوں کی جانب سے حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں سے صرفِ نظر کرتے ہیں۔

Image caption رپورٹ میں سری لنکا میں جنگی جرائم کے ارتکاب پر تشویش ظاہر کی گئی ہے

ایشیائی تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار نو میں افغانستان، پاکستان، سری لنکا اور فلپائن میں باغیوں کے خلاف حکومتی کارروائیوں میں ہزاروں لوگ ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔

رپورٹ میں خاص طور پر سری لنکا میں گزشتہ برس تمل باغیوں اور سری لنکن فوج کی لڑائی میں جنگی جرائم کے ارتکاب پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اس معاملے میں دخل نہ دینے پر اقوامِ متحدہ پر بھی تنقید کی گئی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ایک ایسے تنازعے میں جسے خود اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے ’خون کی ہولی‘ قرار دیا تھا، سلامتی کونسل میں طاقت کے کھیل نے ممبران کو سری لنکن حکومت کی تیار کردہ ایک ایسی قرارداد منظور کرنے پر راضی کر لیا جس میں تمل ٹائیگرز کے خلاف کامیابی پر خود سری لنکن حکومت کی تعریف کی گئی تھی۔

Image caption پاکستان کے قبائلی علاقوں کی آبادی کے مسائل بھی رپورٹ کا حصہ بنے ہیں

پاکستان میں حقوقِ انسانی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں افغانستان کی سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں سے بڑی تعداد میں شہریوں کو پہلے طالبان کے قبضے کے باعث اپنا علاقہ چھوڑنا پڑا اور اس کے بعد حکومت کی جانب سے طالبان کے خلاف کارروائی کے لیے اختیار کردہ بے رحمانہ طریقۂ کار کی وجہ سے بیس لاکھ لوگ بےگھر ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران پاکستانی حکومت کا کوئی ایسا لائحہ عمل سامنے نہیں آیا جس سے ظاہر ہو کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کچھ کر رہی ہے۔

رپورٹ میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے خلیج گوانتنامو کے حراستی مرکز کو وعدے کے باوجود بند نہ کرنے کے فیصلہ پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب بھی گوانتانامو میں ایک سو اٹھانوے افراد قید ہیں۔

Image caption رپورٹ میں گوانتانامو بے مرکز کو بند نہ کرنے کے فیصلہ پر بھی کڑی تنقید کی گئی ہے

رپورٹ میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے خفیہ حراست پروگرام کے تحت پکڑے جانے والے افراد پر تشدد اور ان سے روا رکھے جانے والے برے سلوک کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اب اس پروگرام پر امریکی صدر براک اوباما نے پابندی عائد کر دی ہے۔

ایمنٹسی انٹرنیشنل نے سالانہ رپورٹ میں اس بات کا حوالہ بھی دیا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کے ممالک نے سلامتی کونسل میں اپنی حیثیت کو اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا اور یوں غزہ میں کارروائیوں پر اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات نہیں اٹھائے جا سکے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں سے کہا ہے کہ وہ مثال بنتے ہوئے جرائم کی بین الاقوامی عدالت سے تعاون کریں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ امریکہ، چین، روس، بھارت اور انڈونیشیا جیسے ممالک اس کی حمایت نہ کر کے دنیا بھر کو ایک غلط پیغام دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں