ملا فضل اللہ نہیں ان کے نائب ہلاک

افغان حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ نورستان میں ہلاک ہونے والے پاکستانی طالبان رہنما ملا فضل اللہ نہیں بلکہ ان کے نائب حمیداللہ تھے۔

افغانستان کی سرحد پر تعینات پولیس نے پہلے پاکستانی طالبان لیڈر ملا فضل اللہ کی صوبے نورستان میں افغان فوجیوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا لیکن پولیس اہکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے ملا فضل اللہ نہیں تھے بلکے ان کے نائب حمید اللہ تھے۔

ملا فضل اللہ پاکستانی علاقے سوات میں طالبان کے رہنما تھے اور پاکستانی فوج کے علاقے میں آپریشن کے بعد وہ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے ایسے اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ملا فضل اللہ اپنے چھ ساتھیوں کے ہمراہ ہلاک ہوگئے ہیں لیکن بعد میں افغانستان کے حکام نے کہا ہے کہ وہ ان اطلاعات کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

طالبان کمانڈر فضل اللہ کی ہلاکت کی خبر ان اطلاعات کے ایک روز بعد آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی طالبان کمانڈر فضل اللہ کی قیادت میں پاکستان سے تعلق رکھنے والےسینکڑوں طالبان نے افغانستان کے صوبے نورستان پر حملہ کر دیا ہے۔

ادھر پاکستانی طالبان کے ایک اور اہم رہنماء مولوی فقیرمحمد نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ سوات میں طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ افغان صوبہ نورستان میں اپنے جنگجوؤں کے ہمراہ افغان فورسز کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔.

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا ہے کہ مولانا فقیر محمد نے جمعرات کی صبح کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ افغانستان میں کوئی پاکستانی طالبان کمانڈر تین سو کے لگ بھگ جنگجوؤں سمیت کوئی کارروائی کرے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پاکستانی طالبان کا گروہ انفرادی طور پر کوئی عمل دخل نہیں بلکہ وہاں تمام کاروائیوں افغان طالبان کی مرضی اور ان کی منصوبہ بندی سے ہوتی ہیں۔ ان کے بقول افغان حکام پاکستانی طالبان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان سے جب سوال پوچھا گیا کہ مولانا فضل اللہ اس وقت کہاں ہے تو مولوی فقیر محمد نے کہا’ہوسکتا ہے وہ افغانستان میں ہی ہوں لیکن اس بات میں کوئی سچائی نہیں کہ وہ صوبہ نورستان میں اپنے حامیوں کے ہمراہ افغان اور غیر ملکی افواج کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔‘

یاد رہے کہ مولوی فقیر محمد کا سوات کے طالبان سے انتہائی قریبی مراسم رہے ہیں اور وہ مولانا فضل اللہ کے قریبی دوست بھی بتائے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ دو دن پہلے پاکستان کی سرحد کے قریب واقع افغان صوبہ نورستان کے گورنر جمال الدین بدر نے جلال آباد میں ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ سوات طالبان کے شدت پسند کمانڈر مولانا فضل اللہ نے اپنے تین سو ساتھیوں کے ہمراہ ضلع برگ متال پر حملہ کیا ہے۔

مولانا فضل اللہ گزشتہ سال سوات میں فوجی کاروائی کے دوران اچانک غائب ہوگئے تھے اور بعد نے انہوں نے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے افغانستان بھاگ جانے کی تصدیق کی تھی۔

اسی بارے میں