ڈرون حملوں کو جوابدہ بنائیں: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ایک اعلی اہلکار نے کہا ہے کہ امریکہ کو پاکستان میں القاعدہ کے خلاف اپنے ڈرون حملوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت جوابدہ بنانا ہو گا۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو آئندہ ہفتے پیش کی جانے والی رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ایک اعلی اہلکار فلپ ایٹسن نے کہا ہے کہ امریکہ کو ان بغیر پائلٹ والے طیاروں کی کارروائیوں کا کنٹرول سی آئی اے سے امریکی فوج کو منتقل کرنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ دنیا کے دوسرے ملک بھی جلد ہی یہ ٹیکنالوجی حاصل کر لیں گے اور ان کے بارے میں واضح بین الاقوامی قوانین وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کا قبائلی علاقہ شمالی وزیرستان سب سے زیادہ ڈرون حملوں کی زد پر رہا ہے۔ تاہم امریکہ نے یمن، عراق اور افغانستان کےعلاوہ دوسری جگہوں پر بھی القاعدہ سے تعلق رکھنے والوں کو شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون حملوں کو استعمال کیا ہے۔

افغانستان میں جاری جنگ میں اور خاص طور پر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون طیاروں کو سب سے کارگرد ہتھیار تصور کیا جاتا ہے جس میں اپنے فوجیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر بڑے موثر انداز میں دشمن کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ڈرون کو ابتداء میں جاسوسی کے لیے بنایا گیا تھا لیکن بعد میں اس پر ہیل فائر میزائل نصب کر کے اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔

پاکستان کے قبائلی علاقہ جنوبی وزیرستان میں جمعہ کو ایک ڈرون حملے میں دس افراد ہلاک ہو گئے۔ اس علاقے میں کم و بیش ایک سال بعد ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں