تیرہ سالہ کوہ پیما کا بچوں کو پیغام

دنیا میں سب سے کم عمری میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے امریکی کوہ پیما جورڈن رومیرو نے امید ظاہر کی ہے اُن کا کارنامہ دنیا کے دیگر نوجوان کوہ پیماؤں کو اس کام کی جانب راغب کرے گا۔

فائل فوٹو
Image caption رومیرو نے دنیا کے سات میں سے چھ بر اعظٌموں کی بلند ترین چوٹیاں سر کی ہیں

رومیرو کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اُن جیسے دوسرے بچے بھی اُن کی پیروی کریں گے۔

یاد رہے کہ تیرہ سالہ امریکی کوہ پیما گزشتہ سینچر کو ماؤنٹ ایورسٹ سرکر کے واپس آئے ہیں۔اس معرکے میں اُن کے ہمراہ اُن کے والد، سوتیلی ماں اور شر پا کے تین گائیڈ بھی شامل تھے۔

رومیرو کا کہنا ہے کہ ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے اُن کے علاوہ کوئی دوسرا شخص ایورسٹ پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔

رومیرو یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایورسٹ کی چوٹی سر کرنا اُن کی زندگی کا مشکل ترین کارنامہ تھا۔ اُن کا کہنا ہے انہیں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا خیال دنیا کے مختلف بر اعظموں میں سات بلند چوٹیاں سر کرنے کے بعد آیا۔

یاد رہے کہ رومیرو کا کوہ پیمائی کے میدان میں یہ پہلا کارنامہ نہیں ہے۔ انہوں نے دنیا کے سات میں سے چھ بر اعظٌموں کی بلند ترین چوٹیاں سر کی ہیں۔

انہوں نے سن دو ہزار چھ میں افریقہ کے بلند ترین پہاڑ کلی منجارو سر کیا تھا۔ اُس وقت اُن کی عمر دس سال تھی۔

ا گرچہ رومیرو کو کم عمری میں ایورسٹ سر کرنے پر تنقید کا سامنا ہے تاہم رومیرو کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ دوسرے کم عمر کوہ پیما بھی اُن کی پیروی کریں گے۔

رومیرو کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسا کارنامہ سر انجام دینے کے لیے عمر کی کوئی حد نہیں ہے۔اُن کے مطابق یہ کارنامہ اُن سے کم عمر کے افراد بھی سر انجام دے سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ اِس سے قبل سب سے کم عمر میں ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچنے کا اعزاز نیپال کے تیمبا شری کے پاس تھا جن کی عمر سولہ برس تھی۔انہوں نے یہ ریکارڈ سن دو ہزار ایک میں قائم کیا تھا۔

سنہ انیس سو ترپن میں دو کوہ پیماؤں نے سب سے پہلے ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا تھا۔ اِس سے قبل سینکڑوں افراد ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش کے دوران ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ اپا شیرپا سب سے زیادہ بار ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں