صحافی سمیت چار پاکستانی لاپتہ

پاکستانی صحافیوں کا احتجاج
Image caption پاکستانی صحافیوں نے اسرائیلی کارروائی کے خلاف احتجاج کیا ہے

غزہ کے عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سامان لے کر جانے والے بحری جہازوں کے قافلے پر اسرائیلی حملے کے بعد پاکستان کے نجی ٹی وی کے میزبان طلعت حسین سمیت چار پاکستانی لاپتہ ہیں۔

نجی ٹیلی ویژن ’آج‘ کے اسلام آباد میں بیورو چیف خالد جمیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا صبح سے نیوز اور کرنٹ افئیرز کے ایگزیکٹیو ڈائریکڑ اور ٹی وی میزبان طلعت حسین اور پروڈیوسر رضا محمود آغا سے رابط نہیں ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ’ طلعت حسین کا اپنے ٹی وی چینل (آج نیوز) کے ساتھ مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے سے کچھ دیر پہلے رابط ہوا تھا اور اس کے بعد سے اب تک ہم ان کے سٹیلائیٹ فون پر مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پہلے ان کے فون کی مسلسل گھنٹی بجتی رہی لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا اور بعد ازاں سٹیلائینٹ فون بند ہوگیا۔

خالد جمیل نے کہا کہ ’ہمیں طلعت حسین اور پروڈیوسر رضا محمد آغا کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم نے مختلف ذرائع سے بھی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی مگر کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔

امدادی قافلے میں پاکستانی کی ایک غیر سرکاری تنظیم حبیب فاؤنڈیشن کے چیئرمین ندیم احمد خان اور ان کی اہلیہ بھی ہیں۔

ان کی تنظیم کے ایک عہدیدار پروفیسر ایم اے واحد نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم کے چیئرمین اور ان کی اہلیہ اس وقت کہاں ہیں انھیں اس بارے میں حتمی معلومات نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس وہی معلومات ہیں جو ہمیں میڈیا سے مل رہی ہیں اور ان کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے انہیں یرغمال بنا لیا ہے اور ان کو کسی پورٹ کے قریب لے جا رہے تھے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ’ہمارا ان کے ساتھ کوئی براہ راست رابط نہیں ہے اور نہ ہی ہم نے اپنے کسی ذریعہ سے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے‘۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوششوں کے با وجود ہمیں پاکستانی شہریوں کے ساتھ رسائی ممکن نہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے پاکستان میں امریکہ کی سفیر این ڈبیلیو پیٹرسن سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے اور ان سے پاکستانیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مدد مانگی ہے کیوں کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات نہیں ہیں‘۔

وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ’میں نے امریکی سفیر سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ اپنے ذرائع اور وسائل استعمال کرتے ہوتے ان افراد کی خیریت کے بارے میں معلومات فراہم کریں تاکہ ان کے خاندان والوں کو تسلی ہو‘۔

انہوں نے کہا کہ امریکی کی سفیر نے مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت اور ان کی رہائی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

شاہ محمود قریشی نے اسرائیل کی جانب نے غزہ کے عوام کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے بحری بیڑے پر حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزری قرار دیا۔

پاکستان کی وزرات خارجہ نے بھی اپنے بیان میں امدادی سامان لے کر جانے والے بحری جہازوں کے قافلے پر اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ ’اسرائیل کی جانب سے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا گیا ہے‘ ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ’امن مشن کے ارکان کی ہلاکت جس میں خواتین بھی شامل ہیں، سفاکانہ، غیرانسانی اور بین الاقوامی قانون وضابطوں کی کھلی خلاف ورزی ہے‘۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کو پاکستانی شہریوں اور صحافیوں کی خیریت کے بارے میں تشویش ہے۔

وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے غزہ کے محصور فلسطینی شہریوں کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے پر امن ’فلوٹیلا‘ پر اسرائیلی فوج کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

پیرکو ایک بیان میں وزیراعظم نے حملے میں قیمتی جانوں کے زیاں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

اسی دوران ملک کے مختلف مقامات پر صحافتی تنظیموں نے اس حملے کے خلاف اور پاکستانیوں کی بازیابی کے حق میں مظاہرے کیے ہیں۔

اسی بارے میں