افغانستان میں امن جرگہ

امن جرگہ کابل یونیورسٹی میں لگائے گئے ایک خیمے میں ہو گا سینکڑوں افغان عمائدین صدر حامد کرزئی کی طرف سے بلائے گئے امن جرگے میں شرکت کے لیے کابل میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے بلائے جانے والے اس تین روزہ جرگے کا مقصد اُن عسکریت پسندوں کے ساتھ ایک امن معاہدہ کرنا ہے جو لڑائی بند کرنے کے خواہشمند ہوں۔

افغان طالبان نے کابل میں اس ہفتے ہونے والے امن جرگہ کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ جرگہ میں تقریباً سولہ سو افراد شریک ہونگے جن میں ملک بھر سے آئے ہوئے قبائلی، سیاسی و مذہبی رہنما ، اراکین پارلیمنٹ اور سول سوسائٹی کے ممبران شامل ہیں۔

کسی بھی ممکنہ طالبان حملے کے خدشے کے پیش نظر امن جرگے کے موقع پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے اور اس مقصد کے لیے بارہ سو سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

جرگے کا اختتام جمعہ کے روز ہو گا اور امید ہے کہ اختتامی اجلاس کے موقع پر ایک اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس میں واضح کیا جائے گا کہ شدت پسندوں کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے کیا کیا اقدامات کیے جائیں اور کن گروپوں کو قیامِ امن کے عمل میں شامل کیا جائے۔

دو مرتبہ ملتوی ہونے والے جرگے کے لیے کابل میں شرکاء کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔

اسی بارے میں