ہلاکتوں پر اقوام متحدہ کی مذمت

اقوام متحدہ نے اپنے ایک بیان میں ان اقدامات کی مذمت کی ہے جن کے نتیجے میں کم از کم دس سویلین افراد ہلاک اور تیس سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ ادارے نے اہل خاندان کے ساتھ ان کے جانی نقصان پر اظہار ہمدردی کیاہے۔

Image caption اقوام متحدہ، ہنگامی اجلاس

بیان میں بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیل کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال کے نتیجے میں جانی نقصان اور درجنوں کے زخمی ہونے کے واقعے پر شدید اظہار افسوس بھی کی گیا ہے۔

یہ بیان سمندر کے راستے غزہ کے لیے بحرے امدادی قافلے پر اسرائیل کے کمانڈوز حملے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

سلامتی کونسل نے اسرائیل سے امدادی جہازوں اور اور اس میں سوار افراد کی فوری رہائی کی اپیل کی ہے اور زور دیا ہے کہ متعلقہ ملکوں کو فوری طور اپنے ہلاک اور زخمیوں تک رسائی اور واپس لیجانے کی اجازت دی جائے اور امدادی سامان اس کی منزل تک پہنچانے کو یقینی بنایا جائے۔

سلامتی کو نسل نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اس بیان کو بھی شامل کیا ہے کہ اس واقعے کی بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل، غیر جانبدار، قابل اعتماد اور شفاف تفتیش کروائی جائے۔

سلامتی کونسل نے زور دیکر کہا کہ غزہ کی موجود صورتحال یونہی برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔

کونسل نے قرار داد نمبر 1850 اور 1860 پر مکمل عمدرآمد کرانے کی اہمیت پر زور دیا اور غزہ میں انسانی ہمدری کے سنگین صورتحال پر ایک مرتبہ پھر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی ضروریات کے سامان کی فراہمی جاری رکھی جانی چاہیے۔ بلکہ غزہ بھر میں بغیر کسی رکاوٹ کے اس کی تقسیم کو بھی یقینی بنایا جائے۔

سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطین قضیے کا واحد حل دو ریاستوں کا قیام ہے جو متعلقہ فریقوں کے درمیان مذکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جس کے تحت ایک مکمل آزاد اور معاشی طور پر متحرک فلسطین ریاست کا اسرائیل اور دوسرے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ امن اور سلامتی سے قیام ہی اس خطے میں امن کا ضامن بن سکتا ہے۔

سلامتی کونسل نے بلواسطہ مذاکرات کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اس امر پر تشویش ظاہر کی یہ واقعہ ایسے موقع پر رونما ہوا ہے جب فریقین گفت و شنید کررہے تھے۔ کونسل نے اس موقع پر تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور کہاکہ فریقین کسی قسم کے یکطرفہ اور اشتعال انگیز اقدامات سے پر ہیز کریں، جبکہ بین الاقوامی طاقتوں سے کہا ہے کہ کہ وہ خطے میں تعاون اور ہم آہنگی کے ماحول کو بنائے رکھنے اور فروغ دینے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔