آخری وقت اشاعت:  بدھ 2 جون 2010 ,‭ 15:39 GMT 20:39 PST

اسرائیل:تمام غیر ملکی رہا اور ملک بدر

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

اسرائیل نے پیر کو سمندر کے راستے غزہ میں امدادی سامان لے جانے کی کوشش کرنے پر گرفتار کیے گئے تمام غیرملکی شہریوں کو رہا کر دیا ہے تاہم امدادی قافلے میں شامل اسرائیل کے عرب باشندوں کو رہا نہیں کیا گیا ہے۔

ادھر ترک پارلیمان نے ایک متفقہ قراراداد میں اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل سے اپنے فوجی اور تجارتی تعلقات پر نظرِ ثانی کرے اور اس سلسلے میں ترک کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے جس میں ترک مسلح افواج کے سربراہان بھی شریک ہوں گے۔

ادھر اسرائیل نے ترکی میں اپنے غیر ضروری سفارتی عملے کو ترکی سے واپس بلا لیا ہے۔

اسرائیلی حملہ: کب کیا ہوا

  • امدادی اشیاء لے کر جانے والے بیڑے میں ترکی کی کشتی موی مرمارا سمیت چھ کشتیاں شامل تھیں جو قبرص سے روانہ ہوئی تھیں۔
  • بیڑہ ابھی بین الاقوامی پانیوں میں ہی تھا جب اسرائیلی کمانڈوز نے اس پر حملہ کر دیا۔ اس تصویر میں آپ ایک اسرائیلی فوجی کو ہیلی کاپٹر سے کشتی پر اترتا دیکھ سکتے ہیں۔
  • اسرائیل کا کہنا ہے کہ جیسے ہی اس کے کمانڈو موی مرمارا پر اترے ان پر حملہ کر دیا گیا جبکہ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کمانڈوز نے پہلے حملہ کیا۔
  • ترک ٹیلی ویژن پر دکھائی جانے والی فٹیج میں ایک زخمی کارکن کو ابتدائی طبی امداد دی جا رہی ہے۔
  • حملے کے بعد اسرائیل نے بیڑے کو گھیرے میں لے کر اشدد کی بندرگاہ تک پہنچایا اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان شاہر ارائیلی نے تل ابیب میں کہا ہے کہ ’یہ اسرائیل کے مفاد میں ہے کہ بحری قافلے میں شامل افراد میں سے کوئی بھی اسرائیل میں نہ رہے۔ ان کا یہاں آنا ضروری نہیں تھا لیکن جب وہ یہاں آگئے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ وہ جلد از جلد اپنے اپنے ملکوں میں واپس چلے جائیں‘۔

سب سے پہلے پاکستان سمیت دوسرے اسلامی ملکوں سے تعلق رکھنے والے ایک سو بیس افراد کو آزادی نصیب ہوئی۔ انہیں اردن کی سرحد پر رہا کیا گیا جہاں پہلے سے جمع ان کی حامیوں کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔

یہ اسرائیل کے مفاد میں ہے کہ بحری قافلے میں شامل افراد میں سے کوئی بھی اسرائیل میں نہ رہے۔ ان کا یہاں آنا ضروری نہیں تھا لیکن جب وہ یہاں آگئے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ وہ جلد از جلد اپنے اپنے ملکوں میں واپس چلے جائیں۔

شاہر ارائیلی

امدادی قافلے میں ترکی کے شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ آج رہائی پانے والوں میں تین سو سے زیادہ ترک باشندے شامل تھے جنہیں وطن واپس لانے کے لیے ترکی نے خصوصی طیارے تل ابیب بھیجے تھے۔

رہائی پانے والے ترک شہری یالسن ساحل نے وطن واپسی پر صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے اسرائیلی فوجوں کو کشتی پر حملہ کرتے دیکھا۔’ وہ کشتی ہم سے آگے چل رہی تھی۔ ہم نے پوری کارروائی کو دیکھا۔ ہمارے قافلے کی طرف جب اسرائیلی فوجی بڑھ رہے تھے تو وہ نارمل نظر نہیں آرہے تھے اور نہ ہی یہ ایک نارمل ایکشن تھا۔ یہ بربریت تھی جس کا انہوں نے مظاہرہ کیا‘۔

شہریوں کی رہائی پر ترک وزارت خارجہ کے ایک سینیئر عہدے دار نے کہا ہے کہ زیر حراست افراد کی رہائی سے متعلق اسرائیلی فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل ہوش میں آ رہا ہے تاہم اسرائیل کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ غزہ کی سمندری ناکہ بندی جاری رکھی جائے گی جس کا مقصد ان کے بقول وہاں ہتھیاروں کی ممکنہ اسمگلنگ کو روکنا ہے۔

امدادی کارکن بدھ کی صبح اردن پہنچے

امدادی قافلے پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسرائیل کا دعوی ہے کہ قافلے کے بعض شرکاء نے فائرنگ اسکے فوجیوں پر فائرنگ کی تھی جس پر انہوں نے جوابی کارروائی کی۔

ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد اسی جہاز پر سوار تھے جسے اسرائیلی فوجوں نے گولیوں کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’فجر کی نماز کے فوری بعد انہوں نے مجھے انٹرکام پر کہا کہ ڈاکٹر آپ فوری آئیں یہاں پر کئی لوگ زخمی ہیں۔ تو میں کشتی کے عرشے کی طرف بھاگا اور میں نے دیکھا کہ تین یا چار لوگ بری طرح زخمی حالت میں پڑے ہیں‘۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے غزہ کی طرف رواں دواں ایک اور بحری جہاز کے لیے وارننگ جاری کی ہے۔ یہ بحری جہاز آئر لینڈ کا ہے اور اس میں آئر لینڈ اور ملائیشیا کے دس کارکن سوار ہیں۔ اس جہاز کو بھی امدادی قافلے کا حصہ ہونا تھا لیکن پیچھے رہ گیا اور گزشتہ روز لیبیا کی بندرگاہ سے غزہ کے لیے لنگر انداز ہوا۔ بحری جہاز میں سوار نوبل انعام یافتہ ادیب میریڈ میگوائر اور اقوامِ متحدہ کے سابق نائب سیکرٹری جنرل ڈینس ہیلی ڈے بھی سوار ہیں۔

فجر کی نماز کے فوری بعد انہوں نے مجھے انٹرکام پر کہا کہ ڈاکٹر آپ فوری آئیں یہاں پر کئی لوگ زخمی ہیں۔ تو میں کشتی کے عرشے کی طرف بھاگا اور میں نے دیکھا کہ تین یا چار لوگ بری طرح زخمی حالت میں پڑے ہیں۔

ڈاکٹر محمد

اقوام متحدہ کے سابق نائب سیکرٹری جنرل ڈینس ہیلی ڈے کا کہنا ہے کہ اب اسرائیل کو اپنا گناہ دھونے کا موقع ملے گا۔’ہم اسرائیل کے لیے ایک موقع ہیں کہ وہ حال ہی میں کیے گئے تشدد کے زخم دھو ڈالے۔ اسے ہماری کشتی کو غزہ میں خیر مقدم کا موقع دینا ہو گا اور ہمیں غزہ تک پہنچنے کی اجازت دینی ہو گی‘۔

آئرلینڈ کی حکومت نے غزہ کی جانب رواں دواں اپنے کارکنوں کے اس مشن کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل بحری جہاز کو غزہ تک پہنچنے کا موقع دے۔ ادھر فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ دنیا کے دوسرے ملکوں کو جس اسرائیلی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ فلسطینی روزانہ بھگتتے ہیں۔ انہوں نے غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی کارروائی کی اپیل بھی کی ہے۔

اسرائیل کی طرف سے غیر ملکی کارکنوں کی رہائی کے اعلان سے قبل نیٹو نے بھی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور یورپی یونین کی آواز میں آواز ملائی اور ایک ہنگامی اجلاس کے بعد نیٹو نے قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔