اسرائیل کا آئرش جہاز پر قبضہ

اسرائيلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے فوجیوں نے غزہ کے لیے امداد لانے والے آئرش بحری جہاز ریچل کوری پر قبضہ کر لیا ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ بحری جہاز کوغزہ کے ساحل سے تیس کلومیٹر دور قبضے میں لیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق بحری جہاز کو اب اشدود کی بندرگاہ پر لے جایا جا رہا ہے جہاں پر اس کے سامان کی چیکنگ کی جائے گی۔

بحری جہاز پر سوار ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہیں کسی طرح کی مزاحمت کا سامنے نہیں کرنا پڑا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گیارہ امدادی کارکنوں اور عملے کے ارکان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے جبکہ اسرائیلی پولیس بحری جہاز کی تلاشی لے رہی ہے۔

ریچل کوری کو اس قافلے کا ساتواں جہاز ہونا چاہیے تھا جس پر پیر کے روز اسرائیلی فوج نے حملہ کر کے نو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

ابھی تک بحری جہاز میں سوار کسی بھی فلسطین نواز امدادی کارکن سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ آئرلینڈ اور ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے امدادی کارکنوں کو وطن واپس بھیج دیا جائے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے اسرائیلی فوج کی پرامن کارروائی کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ امدادی سامان غزہ لے جانے والی تنظیم فری غزہ موومنٹ نے اسرائیلی کارروائی پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

فری غزہ موومنٹ کی شریک بانی میری ہیوز نے کہا ہے کہ اسرائیلیوں نے ایک بار پھر سمندر کی بین الاقوامی حدود میں جاکر بحری جہاز پر قبضہ کیا ہے اور امدادی کارکنوں کو زبردستی اسرائیل لے جایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزید امدادی بحری جہازوں کو غزہ لے جانے کا اہتمام کیا جائے گا اور امدادی تنظیمیں اس وقت تک اپنی کوشش جاری رکھیں گی جب تک غزہ کا محاصرہ ختم نہیں کر دیا جاتا۔

اس سے پہلے اسرائیل نے کہا تھا کہ امدادی سامان لے جانے والے بحری جہاز ریچل کوری نے اسرائیلی بندرگاہ اشدود پر لنگرانداز ہونے کی ہدایات نظرانداز کردی ہیں۔اسرائیلی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اویتال لیبووچ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’اگر وہ ہماری بات نہیں مانتے تو ہمیں جہاز پر سوار ہونا پڑے گا‘۔.

لیفٹیننٹ کرنل لیبووچ کے مطابق ’ہم نے کشتی سے رابطہ کیا ہے اور انہیں نرم انداز میں راستے تبدیل کر کے اشدود بندرگاہ پر جانے کو کہا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ہمارا وعدہ ہے کہ ہم جہاز پر سوار نہیں ہوں گے‘۔

جہاز پر سوار امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہوں نےغزہ کے ساحل پر ہی لنگرانداز ہونے کا عزم کیا ہے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ریچل کوری کو غزہ نہیں جانے دے گا۔ تاہم دونوں ہی فریق یہ کہتے ہیں کہ وہ تشدد نہیں چاہتے۔

یہ امدادی بحری جہاز اصل میں اسی امدادی قافلے فریڈم فلوٹیلا کا حصہ تھا جس پر گزشتہ ہفتے اسرائیلی کمانڈوز نے دھاوا بول دیا تھا اور اس واقعے میں نو افراد مارے گئے تھے۔ تاہم تکینیکی خرابی کی وجہ سے یہ تاخیر سے غزہ کی جانب روانہ ہوا تھا۔

فریڈم فلوٹیلا کے خلاف کارروائی پر اسرائیل کو دنیا بھر خصوصاً ترکی کی جانب سے شدید مذمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس واقعے میں مرنے والوں میں سے آٹھ ترک باشندے تھے۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان ڈونیسن کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ اس وقت بحیرۂ روم میں صحیح حالات کیا ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی بحری جہازوں نے ریچل کوری کے گرد ایک حصار قائم کر لیا گیا ہے۔

ریچل کوری میں سینکڑوں ٹن امدادی سامان لدا ہوا ہے اور اسرائیل پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ چند روز پہلے کے امدادی بیڑے کی مانند اس جہاز کو بھی غزہ کا محاصرہ توڑنے نہیں دیا جائے گا۔

ادھر امریکہ نے امدادی جہاز پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کے بجائے اسرائیلی بندرگاہ اشدود کے ذریعے امداد بھجوائے۔ وہائٹ ہاؤس سے جاری کیے گئے بیان میں بھی غیر ضروری محاذ آرائی سے اجتناب پر زوردیا گیا ہے لیکن بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غزہ میں امداد کی فراہمی کا موجودہ انتظام چلنے والا نہیں اور اس کو لازماً تبدیل ہونا چاہیے۔

اس امدادی جہاز پر آئرلینڈ کے نوبل انعام یافتہ مئیریڈ میگوائر سمیت بیس افراد سوار ہیں جن میں سے پانچ آئرش اور چھ ملائیشین امدادی کارکن جبکہ عملے کے نو افراد شامل ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار سباسٹین عشر کے مطابق آئرلینڈ کے اس جہاز کا نام انسانی حقوق کی ایک امریکی امدادی کارکن ریچل کوری کے نام پر رکھا گیا۔ ریچل ایک اسرائیلی بلڈوزر کے نیچے دب کر اس وقت ماری گئی تھیں جب وہ غزہ میں فلسطینیوں کے مکانات کو منہدم ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

اسی بارے میں