اسرائیل سے تعلقات پر نظرِثانی کا اعلان

اسرائیلی کمانڈوز کی فائرنگ سے دس ترک امدادی کارکن ہلاک ہو گئے تھے ترکی نے فوٹیلا بحری قافلے پر ہونے والے حملے کے بعد اسرائیل کے ساتھ اقتصادی اور دفاعی تعلقات میں کمی کی دھمکی دی ہے۔

ترکی کے نائب وزیرِ اعظم بلند ایرنک کا کہنا ہے کہ انقرہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر نظر ثانی کر رہا ہے۔

اب کیا ایٹم بم چلائیں گے

انہوں نے جمعہ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ’اسرائیل کے ساتھ ہونے والے تمام فوجی اور اقتصادی معاہدوں کا دوباہ جائزہ لیا جائے گا‘۔ تاہم انہوں نے اسرائیل کے خلاف فوری طور پر کسی بھی قسم کےایکشن لینے کے بارے میں کسی اقدام کو رد کر دیا۔

نائب وزیراعظم نے این ٹی وی کو بتایا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اقتصادی اور دفاعی تعلقات میں کمی پر سنجیدہ ہیں۔

استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ بلند ایرنک کا کہنا تھا کہ بحری بیڑے پر کیے جانے والے اسرائیلی حملے کے بعد ترکی اور اسرائیل کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

یاد رہے کہ اسرائیلی کمانڈوز نے پیر کی صبح غزہ جانے والے امدادی بحری پیڑے پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں نو امدادی کارکن ہلاک ہو گئے تھے جن میں سے آٹھ ترک تھے۔

بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیل کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال کے نتیجے میں جانی نقصان پر پوری دنیا نے اسرائیل کی شدید مذمت کی تھی۔

اس واقعہ کے بارے میں ابھی تک غیر مصدقہ اطلاعات ہیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے اُن پر اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا جبکہ اسرائیل کا موقف ہے اُس کے کمانڈوز پر فائرنگ کی گئی تھی۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی بحری جہاز کو غزہ جانے کی اجازت نہیں دے گا۔

ترکی میں جمعرات کے روز اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے آٹھ امدادی کارکنوں کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔ ہلاک ہونے والے آٹھ امدادی کارکنوں میں انیس سالہ فرکان ڈوگن بھی شامل ہے جسے اُس کے آبائی گاؤں کیسری میں سپردِ خاک کیا گیا۔

.

اسی بارے میں