انڈین امریکن لڑکی سپیلنگ چمپئن

انامیکا ویرامنی
Image caption انامیکا ویرامنی کو شروع ہی سے متوقع فاتح تصور کیا جا رہا تھا۔

امریکی ریاست اوہائیو کی چودہ سالہ لڑکی نے ملک میں سپیلنگ کا مشہور مقابلہ ’نیشنل سپیلنگ بی‘ جیت لیا ہے۔

نارتھ رائل ٹاؤن کی انامیکا ویرامنی نے یہ مقابلہ طبی اصطلاح سٹرومور کے درست سپیلنگ کر کے جیتا۔ اس لفظ کے سپیلنگ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ایچ ایس ٹی آر او ایم یو کے بعد ایچ آر لکھا جاتا ہے اور یو ایچ مل کر ڈبل او کی آواز دیتے ہیں۔

اس مقابلے میں فتح مند ہونے سے انامیکا سپیلنگ کی امریکی چمپئن کا ٹائٹل جیتنے کے ساتھ ساتھ چالیس ہزار ڈالر (تقریباً ساڑھے ستائس ہزار پاؤنڈ) بھی گھر لے جانے میں کامیاب ہوئیں۔

پچھلے سال انامیکا نے اس مقابلے کے مشترکہ حصے میں پانچویں پوزیشن حاصل کی تھی اور اس سال مقابلہ میں حصہ لینے والے دو سو تہتر لوگوں میں انہیں شروع ہی سے متوقع فاتح تصور کیا جا رہا تھا۔

ہر سال واشنگٹن میں ہونے والے سپیلنگ کے اس مقابلے میں پچھلے تین سال سے مسلسل انڈین امریکن جیت رہے ہیں۔ جب کے پچھلے بارہ سال کے مقابلوں میں آٹھ انڈین امریکیوں نے یہ اعزاز جیتا ہے۔

سٹرومور ایک ایسے آلے کا نام ہے جو خون کی رفتار کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ چودہ سالہ چمپئن کو گولف کھیلنے اور رقص کرنے کا شوق ہے اور وہ ہاورڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے امراض قلب کی ماہر بننا چاہتی ہیں۔

ٹرافی حاصل کرنے کے بعد ان کی مسکراہٹ روکے نہیں رکتی تھی۔ جب ان سے ان کے جذبات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’سب کچھ ایک خواب سا لگتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ انوکھا تجربہ ہے، عام طور پر تو میرا چہرہ سپاٹ رہتا ہے لیکن اس وقت میرے جذبات وہی ہیں جو میرے چہرے پر دکھائی دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں