سات امدادی کارکن اسرائیل بدر

اسرائيل نے ان سات امدادی کارکنوں کو ملک بدر کر دیا ہے غزہ کے لیے امداد لانے والے آئرش بحری جہاز سے گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ امدادی کارکن ان گیارہ کارکنوں اور عملے کے آٹھ افراد میں شامل تھے جنہیں پیر کے روز اسرائیل فوج نے جہاز پر قبضے کے دوران گرفتار کیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے پیر کے روز غزہ کے لیے امداد لانے والے جہاز پر حملہ کر کے نو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

ترکی میں ان افراد کے پوسٹ مارٹم کے دوران ان افراد کے جسموں سے تیس گولیاں برآمد ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک امدادی کارکن کے جسم سے چار گولیاں برآمد ہوئیں۔

ان افراد کا پوسٹ مارٹم ترکی میں کیا گیا کیونکہ مرنے والے نو افراد میں سے آٹھ ترکی کے شہری تھے جبکہ نواں امریکہ اور ترکی دوہری شہریت رکھتا تھا۔

استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے نتیجےمیں سامنے آنے والی تفصیلات اس اسرائیلی موقف کی تردید کرتی ہیں کہ اس کے کمانڈوز نے جہاز پر کم سے کم طاقت کا استعمال کیا۔

سنیچر کے روز اسرائيلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس کے فوجیوں نے غزہ کے لیے امداد لانے والے آئرش بحری جہاز ریچل کوری پر قبضہ کر لیا ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ بحری جہاز کوغزہ کے ساحل سے تیس کلومیٹر دور قبضے میں لیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق بحری جہاز کو اب اشدود کی بندرگاہ پر لے جایا جا رہا ہے جہاں پر اس کے سامان کی چیکنگ کی جائے گی۔

بحری جہاز پر سوار ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہیں کسی طرح کی مزاحمت کا سامنے نہیں کرنا پڑا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گیارہ امدادی کارکنوں اور عملے کے ارکان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے جبکہ اسرائیلی پولیس بحری جہاز کی تلاشی لے رہی ہے۔

ریچل کوری کو اس قافلے کا ساتواں جہاز ہونا چاہیے تھا جس پر پیر کے روز اسرائیلی فوج نے حملہ کر کے نو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ آئرلینڈ اور ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے امدادی کارکنوں کو وطن واپس بھیج دیا جائے گا۔

فری غزہ موومنٹ کی شریک بانی میری ہیوز نے کہا ہے کہ اسرائیلیوں نے ایک بار پھر سمندر کی بین الاقوامی حدود میں جاکر بحری جہاز پر قبضہ کیا ہے اور امدادی کارکنوں کو زبردستی اسرائیل لے جایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزید امدادی بحری جہازوں کو غزہ لے جانے کا اہتمام کیا جائے گا اور امدادی تنظیمیں اس وقت تک اپنی کوشش جاری رکھیں گی جب تک غزہ کا محاصرہ ختم نہیں کر دیا جاتا۔

اس سے پہلے اسرائیل نے کہا تھا کہ امدادی سامان لے جانے والے بحری جہاز ریچل کوری نے اسرائیلی بندرگاہ اشدود پر لنگرانداز ہونے کی ہدایات نظرانداز کردی ہیں۔اسرائیلی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اویتال لیبووچ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’اگر وہ ہماری بات نہیں مانتے تو ہمیں جہاز پر سوار ہونا پڑے گا‘۔.

لیفٹیننٹ کرنل لیبووچ کے مطابق ’ہم نے کشتی سے رابطہ کیا ہے اور انہیں نرم انداز میں راستے تبدیل کر کے اشدود بندرگاہ پر جانے کو کہا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ہمارا وعدہ ہے کہ ہم جہاز پر سوار نہیں ہوں گے‘۔

جہاز پر سوار امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہوں نےغزہ کے ساحل پر ہی لنگرانداز ہونے کا عزم کیا ہے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ریچل کوری کو غزہ نہیں جانے دے گا۔ تاہم دونوں ہی فریق یہ کہتے ہیں کہ وہ تشدد نہیں چاہتے۔

فریڈم فلوٹیلا کے خلاف کارروائی پر اسرائیل کو دنیا بھر خصوصاً ترکی کی جانب سے شدید مذمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس واقعے میں مرنے والوں میں سے آٹھ ترک باشندے تھے۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان ڈونیسن کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ اس وقت بحیرۂ روم میں صحیح حالات کیا ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی بحری جہازوں نے ریچل کوری کے گرد ایک حصار قائم کر لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں