اسرائیل: انٹرنیشنل انکوائری سے انکار

نتن یاہو اتوار کو اس تجویز پر کابینہ کے سینئر ارکان سے صلاح و مشورہ کرنے والے تھے اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر نے کہا کہ ان کا ملک فورٹیلا پر حملے سے متعلق کسی بھی انٹرنیشنل انکوائری کو مسترد کر دے گا۔

دوسری جانب یورپی اتحاد نے بھی اس واقعے کی عالمی تفتیش کرانے کے لیے اسرائیل پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

اسرائیل کے سفیر مائیکل اورین نے امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے پاس اپنی فوج سے متعلق تحقیق کرنے کی صلاحیت بھی ہے اور ایسا کرنے کا حق بھی۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل وزیر اعظم بنیامن نتنیاہو کو ٹیلی فون کر کے انٹرنیشنل کمیشن کے ذریعے انکوائری کی تجویز دی تھی۔

اسرائیلی سفیر نے کہا کہ ’ہم انٹرنیشنل کمشن کی تجویز کو مسترد کر رہے ہیں۔ ہم اوباما انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کر کے کوئی ایسا طریقہ وضح کر رہے ہیں جس کے تحت یہ انکوائری ہو گی۔‘

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی واقعے پر معافی نہیں مانگے گا۔ ہلاک ہونے والوں میں سے آٹھ ترکی کے شہری تھے جبکہ نواں امریکہ اور ترکی کی دوہری شہریت رکھتا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم مسٹر بان کی مون کی طرف سے دی جانے والی تجویز پر کابینہ کے سینیئر ارکان سے صلاح و مشورہ کرنے والے تھے۔

تاہم مائیکل اورین نے کہا کہ اسرائیل کے جمہوری ملک ہے اور اس کے پاس یہ صلاحیت بھی ہے اور اس بات کا حق بھی کہ وہ اپنے معاملات کی خود تحقیقات کرے، بجائے اس کے کہ یہ کام کسی انٹرنیشنل بورڈ سے لیا جائے۔

مجوزہ کمشن میں امریکہ، ترکی اور اسرائیل کے نمائندوں کو شامل کیا جانا تھا اور اس کی سربراہی کے لیے نیوزی لینڈ کے سابق وزیر اعظم جیفری پامر کا نام تجویز کیا گیا تھا۔

دریں اثنا اسرائیل کے انکار کے باوجود فریڈم فلوٹیلا پر کمانڈوز کے حملے کی عالمی تفتیش کرانے کے لیے اسرائیل پر عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

یورپی اتحاد نے نہ صرف اس واقعے کی عالمی انکوائری بلکہ مقبوضہ غزہ کا محاصرہ ختم کرنے میں اپنے کردار کی تجویز پیش کی ہے۔

فرانس کے وزیرخارجہ برنارڈ کوچنر نے اتوار کو پیرس میں برطانوی وزیرخارجہ سے ملاقات کے بعد کہا کہ امریکہ، فرانس اور اقوام متحدہ نے ایک بڑی جامع تجویز پیش کی ہے جس کا جواب اسرائیل کو دینا ہے۔

انھوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فوٹیلا کے واقعے میں نو افراد کی ہلاکت کی عالمی تفتیش کو قبول کرے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جو چیز زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ غزہ کی صورتحال ناقابل برداشت ہے۔ اتنے لمبے عرصے سے جو لوگ محصور ہیں ان کے لیے غزہ کی صورتحال بالکل ناقابل برداشت ہوگئی ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین غزہ میں محصور فلسطینیوں کو امدادی سامان پہنچانے اور ساری کارروائی کو اسلحے سے پاک رکھنے میں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین غزہ جانے والے جہازوں پر لدے امدادی سامان کی تلاشی لینے کو تیار ہے اور اس زیادہ غزہ اور مصر کی سرحد پر واقع رفاہ کی گزر گاہ کا کنڑول سنبھالنے کو تیار ہے۔

دوسری طرف اسرائيل نے ان سات امدادی کارکنوں کو ملک بدر کر دیا ہے غزہ کے لیے امداد لانے والے آئرش بحری جہاز سے گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ امدادی کارکن ان گیارہ کارکنوں اور عملے کے آٹھ افراد میں شامل تھے جنہیں پیر کے روز اسرائیل فوج نے جہاز پر قبضے کے دوران گرفتار کیا تھا۔

ترکی میں ان افراد کے پوسٹ مارٹم کے دوران ان افراد کے جسموں سے تیس گولیاں برآمد ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک امدادی کارکن کے جسم سے چار گولیاں برآمد ہوئیں۔

ان افراد کا پوسٹ مارٹم ترکی میں کیا گیا کیونکہ مرنے والے نو افراد میں سے آٹھ ترکی کے شہری تھے جبکہ نواں امریکہ اور ترکی دوہری شہریت رکھتا تھا۔

استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے نتیجےمیں سامنے آنے والی تفصیلات اس اسرائیلی موقف کی تردید کرتی ہیں کہ اس کے کمانڈوز نے جہاز پر کم سے کم طاقت کا استعمال کیا۔

اسی بارے میں