مشتبہ طالبان قیدیوں کا ازسرنو جائزہ

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے حکم دیا ہے کہ ملک کی تمام جیلوں میں قید مشتبہ طالبان کے مقدمات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

فائل فوٹو، حامد کرزئی
Image caption مشتبہ طالبان قیدیوں کے مقدمات کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے گی

گزشتہ جمعہ کو کابل میں ہونے والے جرگے کے اختتام پر طالبان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ملک میں امن کی بحالی کی منظوری دی گئی تھی۔

حامد کرزئی کا مشتبہ طالبان قیدیوں کے مقدمات کا دوبارہ جائزہ لینے کا حکم اس جرگے میں طے کردہ اقدامات کے حوالے سے پہلا سرکاری اعلان ہے۔

صدر حامد کرزئی کے مطابق اگر کسی بھی مشتبہ قیدی کے خلاف موجود شواہد میں شک ہوا تو اس کو رہا کر دیا جائے گا۔

مشتبہ طالبان قیدیوں کے مقدمات کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔

کابل میں ہونے والے جرگے میں مصالحت کے عمل کو فروغ دینے کے حوالے سے بات چیت کی گئی تھی۔ اس میں طالبان دھڑوں کے ساتھ بات چیت کے علاوہ تجویز دی گئی تھی کہ افغان پولیس اور امریکی فوج کی تحویل میں ایسے مشتبہ طالبان کو رہا کر دیا جائے گا جنہیں ناکافی شواہد اور غلط معلومات کی بنا پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس کتنے مشتبہ طالبان قیدیوں کے مقدمات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ ملک میں اس وقت طالبان سے تعلق کے الزام میں سینکڑوں افراد قید ہیں۔

افغانستان میں غیر ملکی فوج کے سربراہ امریکی جنرل سٹینلے میکرسٹل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حامد کرزائی نےان سے کہا ہے کہ ایسے مشتبہ افراد کو رہا کیا جائے جن کے خلاف شواہد ناکافی ہیں یا ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ وہ پہلے گزشتہ چند ماہ سے اس حوالے سے کام کر رہے ہیں اور ضمن میں ایک نہایت موثر نظر ثانی بورڈ کام کر رہا ہے اور ہم نے ملک بھر سے بڑی تعداد میں افراد کو رہا کیا ہے اور یہ عمل بڑی کامیابی سے جاری ہے۔

دوسری جانب افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزیرِ داخلہ حنیف اتمر اور انٹیلیجنس سروسز کے سربراہ امراللہ صالح کے استعفے منظور کر لیے ہیں۔

ایک بیان میں صدر کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے افغان امن جرگے پر ہونے والے راکٹ حملے سے متعلق پوچھ گچھ کے لیے انہیں بلایا گیا تھا۔ انٹیلیجنس سربراہ امراللہ کا کہنا ہے کہ وہ صدر کو مطمئین نہیں کر سکے تھے جس پر انھوں نے صدر کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔

دریں اثنا نیٹو کا کہنا ہے کہ اتوار کو افغانستان میں پیش آنے والے مختلف واقعات میں پانچ غیر ملکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں