ایران پر نئی پابندیوں کی قرارداد تیار

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ایران کے خلاف مزید بین الاقوامی پابندیوں کی قرار داد ووٹنگ کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔

فائل فوٹو
Image caption قرارداد بدھ کو پیش کی جا سکتی ہےگ یہ ایران کے خلاف پابندیوں کی چوتھی قرارداد ہو گی

قرار داد ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے پیش کی جا رہی ہے۔

مغرب کا کہنا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ہتھیار بنانے کے لیے ہے جب کہ ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

اقوام متحدہ میں سفیروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سلامتی کونسل کے کچھ ارکان قرار داد کی مخالفت کریں گے لیکن یہ رواں ہفتے کے درمیان میں پیش کر دی جائے گی۔

ایران کے خلاف نئی عالمی پابندیوں کی قرارداد میں پہلے سے ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کو بڑھانا، سخت اقتصادی پابندیاں اور ایرانی بحری جہازوں کی سخت چیکنگ کا اقدام تجویز کیا گیا ہے۔

سفیروں کا کہنا ہے کہ قرارداد بدھ کو پیش کی جا سکتی ہے اور اس حوالے سے بہت تھوڑا ابہام ہے کہ قرارداد منظور ہو جائے گی۔

سلامتی کونسل کے چند رکن ممالک یا تو قرارداد پر ووٹنگ سے اجتناب کریں گے یا اس کی مخالفت میں ووٹ دیں گے لیکن ان ممالک میں کوئی بھی مستقل ممبر نہیں ہے جو اسے ویٹو کر سکتا ہے۔

ان ممالک میں ترکی اور برازیل شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کا فائدہ نہیں ہو گا۔ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ حال ہی میں افزدہ یورینیم کی منتقلی کے معاہدے کے بعد اس معاملے پر سفارت کاری کا نیا موقع پیدا ہوا ہے۔

دونوں ممالک کی درخواست پر امکان ہے کہ سلامتی کونسل ایران کے خلاف قرارداد پر ووٹنگ سے پہلے ایک اضافی اجلاس بلائے۔

اسی بارے میں