’اسرائیل اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے‘

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ امدادی جہاز پر حملے کی عالمی انکوائری کی تجویز مسترد کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

فائل فوٹو
Image caption امدادی جہاز پر اسرائیل کے حملے میں نو افراد ہلاک اور ساٹھ زخمی ہو گئے تھے

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے دوسرے ممالک سے کہا ہے کہ وہ ترکی کے امدادی جہاز پر اسرائیل کے خونی حملے سے متعلق تفتیش کی نگرانی کریں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بانکی مون اب بھی امید کر رہے ہیں کہ ’قابل اعتبار بین الاقوامی مداخلت‘ تحقیقات کو اطمینان بخش بنائے گی کہ یہ ’ قابل اعتبار، غیر جانبدار، شفاف اور مستعد تھی۔

ترجمان کے مطابق بانکی مون کو ابھی تک اسرائیل نے باضابط طور پر بین الاقوامی انکوائری کو مسترد کرنے کا نہیں بتایا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی خود تحقیقات کرے گا۔ اسرائیل نے اس واقعے کے متعلق شروع ہونے والی تحقیقات کے خدوخال کے بارے میں بتایا ہے۔

اسرائیل کے ایک وزیر بینئی بیجن نے سرکاری ریڈیو پر بتایا ہے کہ وہ خاص طور پر غزہ کی بحری ناکہ بندی کی قانونی حیثیت اور امدادی جہاز پر چھاپے کا جائزہ لیں گے۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل وزیر اعظم بنیامن نتنیاہو کو ٹیلی فون کر کے انٹرنیشنل کمیشن کے ذریعے انکوائری کی تجویز دی تھی۔ لیکن اتوار کو اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر نے کہا تھا کہ ان کا ملک فورٹیلا پر حملے سے متعلق کسی بھی انٹرنیشنل انکوائری کو مسترد کر دے گا۔

اسی بارے میں