امیگریشن قواعد سخت کرنے پر غور

برطانیہ میں نئی حکومت کے وزراء اس برس موسم خزاں میں ایسے نئے قواعد نافذ کرانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جن کے تحت برطانوی شہریوں سے شادی کرنے والے تارکیں وطن کو انگریزی زبان پر مکمل عبور ثابت کرنا پڑے گا۔

یہ قوانین سابق لیبر پارٹی کی حکومت جولائی سنہ دو ہزار گیارہ میں نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی اور ان کا اطلاق اُن برطانوی مرد اور خواتین سے شادی کرنے والے غیرملکیوں پر ہونا تھا جن کا تعلق یورپی یونین کے ملکوں کے علاوہ دوسرے ممالک بشمول جنوبی مشرقی ایشیاء سے ہو۔

نئی حکومت کی وزیرِ داخلہ تھریسا مے نے کہا ہے کہ ان نئے قوانین سے ملک میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

سماجی امور پر کام کرنے والی تنظیموں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس سے برطانیہ آنے والوں میں انگریزی کی ترویج کرنے میں مدد ملے گی تاہم انھوں نے ان کو قوانین کو امتیازی قرار دیا ہے۔

ان نئے قواعد کے تحت کوئی بھی شخص یورپی یونین کے علاوہ کسی دوسرے ملک سے برطانیہ میں اپنے برطانوی شریک حیات کے ساتھ رہنے کے لیے برطانوی ویزے کی درخواست دے گا یا دی گی تو ان کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ انھیں روز مرہ کی زندگی میں انگریزی زبان میں معمولات زندگی چلانے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔

ان قواعدہ کا اطلاق ایک ہی جنس کے جوڑوں پر بھی ہوگا۔

موجوہ قواعد کے تحت ایسے جوڑوں کو صرف یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ان کی شادی حقیقی ہے اور وہ مالی طور پر اس قابل ہیں کہ اپنے طور پر گزارہ کر سکتے ہیں۔

وزیر داخلہ تھریسا مے کا کہنا ہے کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ جو برطانیہ میں مقیم ہونا چاہتا ہے اس کے لیے انگریزی زبان بولنا لازمی ہونا چاہیے۔ نئے قواعد سے سماج میں آہنگی پیدا کرنے میں مدد ملے گی، سماجی روکاوٹیں ہٹانے میں مدد ملے گی اور پبلک سروسز کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔‘