ایران میزائل معاہدہ برقرار ہے: روس

روس نے کہا ہے کہ اس نے ایران کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی فروخت کا جو طویل المدت معاہدہ کر رکھا ہے وہ ایران پر لگائی جانے والی تازہ عالمی پابندیوں سے متاثر نہیں ہوگا۔

روس نے یہ بیان ایسے وقت دیا ہے جبکہ ایک دن پہلے ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے خلاف اب تک کی سخت ترین پابندیوں کی منظوری دی ہے۔

روس نے ایران کو میزائلوں کی فروخت کا یہ معاہدہ کئی سال پہلے کیا تھا لیکن اب تک اس نے یہ میزائل ایران کو فراہم نہیں کیے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئے لاو روف نے کہا کہ یہ میزائل سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی زد میں نہیں آتے۔

انہوں نے کہا کہ ماسکو ایران میں مزید جوہری ری ایکٹروں کی تعمیر پر تہران سے بات چیت کر رہا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کو تشویش ہے کہ ایران اپنی جوہری تنصیبات کو کسی ممکنہ حملے سے بچانے کے لیے روسی میزائل استعمال کرسکتا ہے جو جہاز اور کروز میزائل کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوسری طرف ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تازہ پابندیوں کے بعد ملکی پارلیمینٹ اس بات پر غور کرے گی کہ جوہری نگرانی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے ساتھ اب کس طرح کے تعلقات رکھے جائیں۔

ایران نے اس بات کی وضاحت تو نہیں کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا کرنے جارہا ہے لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مجوزہ اقدامات میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایران اپنی جوہری تنصیبات تک عالمی ادارے کے معائنہ کاروں کو رسائی دینا بند کردے۔

اسی بارے میں