افغانستان کامیابی سست مگر پائیدار:گیٹس

امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ افغانستان میں مزاحمت کاروں کے خلاف غیر ملکی فوجوں کو دوبارہ برتری حاصل ہو رہی ہے۔

رابرٹ گیٹس نے یہ بات برسلز میں نیٹو کے اجلاس کے بعد کی جہاں افغانستان کے مشن کے بارے میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے صحافیوں کو بتایا کہ نیٹو کو کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔ ’دھیرے دھیرے لیکن مستقل اور دیرپا کامیابی‘۔

اس موقع پر نیٹو کے سربراہ اینڈریس ریسموسن نے کہا کہ افغانستان میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں اسی سال سے وہاں کی مقامی فوج کے حوالے کرنے کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں متنبہ کیا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی اتحاد کو بہت محنت کرنی ہو گی۔

نیٹو کے حکام تسلیم کرتے ہیں کہ موسم گرما کے دوران قندھار کے گرد و نواح میں آپریشن کے دوران لڑائی میں تیزی آئے گی۔ افغانستان میں نیٹو کے کمانڈر جنرل مکرسٹل نے جمعرات کو کہا تھا کہ مقامی لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے قندھار کے لیے آپریشن سست رفتاری سے آگے بڑھے گا۔

جمعہ کو قندھار ہی میں سڑک کے کنارے نصب کیے گئے ایک بم سے نو شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ اس مہینے کے دوران طالبان کے حملوں میں کم سے کم تیس نیٹو فوجی ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے بیس امریکی تھے۔

بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگار کے مطابق نیٹو کے کمانڈروں اور ان کے اتحادیوں کے درمیان افغانستان سے انخلاء کے نظام الاوقات کے بارے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

نامہ نگار نے بتایا کہ سیاسی اور عوامی سطح پر افغانستان کے مشن کے حوالے سے بے چینی اور شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں جبکہ نیٹو کی حکمت عملی سست رفتاری کی ہے۔

اسی بارے میں