تیل قضیے پر کیمرون اوباما بات چیت

خلیج جہاں کنویں سے تیل کا اخراج ہوا تھا خلیج میکسیکو میں تیل کے کنویں سے اخراج کے نتیجے میں نقصانات سے نمٹنے سے ناکامی پر جو بحران پیدا ہوا ہے ، اس پر اب برطانوی وزیر اعظم خود امریکی صدر اوباما سے بات کریں گے۔

برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ برٹش پیٹرولیم کے کنویں سے تیل رسنے سے جو ماحولیاتی نقصانات ہورہے ہیں اس پر انھیں تشویش ہے۔ تاہم ان کے عملے نے عندیہ دیا ہے کہ بات چیت مدبرانہ اور سفارت کاری کے آداب کے دائرے میں ہوگی۔

بی بی سی کے اقتصادی امور کے نامہ نگار رابرٹ پیسٹن کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ بی پی اہلکار امریکی دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے کھاتہ داروں کو منافع نہیں دیں گے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بی پی کی اعلیٰ انتظامیہ کو اس فیصلے تک پہنچے میں خاصا وقت لگا کہ کہ اگر صدر اوباما منافع روکنے کی بات کررہے ہیں تو موجودہ صورتحال میں غالباً یہ ایک سمجھداری کا فیصلہ ہوگا۔

تیل کے کاروبار کی اس بڑی کمپنی کے ڈائریکٹرز ممکنہ فیصلوں پر صلاح مشورے کے لیے پیر کو اجلاس کررہے ہیں۔

کمپنی کے پاس وافر وسائل

اب ایسا نظر آتا ہے کہ بحران کے حتمی خاتمے تک اور اس سے نمٹنے کے لیے اخراجات پورے کرنے تک بی پی ایک ارب اسی کروڑ پاؤنڈ کے منافع کی رقم شئیرز ہولڈرز میں تقسیم کرنا روک دے گی۔

نقصانات کا تخمینہ بیس ارب پاؤنڈ تک لگایا جارہا ہے تاہم اگر اخراجات اس سے زیادہ بڑھ بھی جاتے ہیں تو کمپنی سمجھتی ہے کہ اس کے پاس وسائل موجود ہیں۔

Image caption خلیج میں کمپنی کی تنصیبات، جہاں سے بحران سے نمٹنے کی کوشش کی جارہی ہے

واضح رہے کہ بی پی کے ملازمین کی تعداد دس ہزار سے زیادہ ہے اور اس واقعے کے بعد سے بی پی کے شئیرز کی قیمت تقریباً نصف ہوچکی ہے۔

خلیج میکسیکو میں تیل کا کنواں پھٹنے سے بیس اپریل سے تیل رس کر امریکی ریاست لوزیانا تک پہنچ چکا ہے۔ اندازوں کے مطابق تین جون تک کنویں سے تیل کا اخراج بند ہونے تک چالیس ہزار بیرل تیل روزانہ خارج ہو رہا تھا۔

برطانوی وزیراعظم اور کیمرون اور وزیر خزانہ جارج او بورن اس بحران کے بارے میں بی پی کے چیئرمین سے صلاح مشورہ کر چکے ہیں۔ وزیراعظم کے ترجمان کے مطابق بی پی کے چیئرمین نے وزیراعظم کو آگاہ کیا ہے کہ بی پی تیل کے کنویں سے اخراج مکمل طور پر بند کرانے کےلیے ہر ممکن اقدامات کے علاوہ نقصانات کا جائز معاوضہ ادا کرے گی۔

بی پی کے چیئر مین کہتے ہیں کہ نقصانات کی نوعیت نجی ہوں یا ماحولیاتی، ان سے خوش اسلوبی سے نمٹنا کمپنی اور امریکہ دونوں کے ہی حق میں بہتر ہے۔

اسی بارے میں