غزہ حملہ: تحقیقات اسرائیل کروائے گا

اسرائیل نے کہا کہ ہے کہ وہ حال ہی میں غزہ امداد لے کر جانے والے قافلے پر اپنے فوجیوں کے حملے کی خود تحقیقات کروائے گا۔ دریں اثناء بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے اسرائیل سے غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امدادی قافلے پر حملہ(فائل فوٹو)

کمیٹی نے غیر معمولی طور پر ایک سخت بیان میں کہا کہ اسرائیل کا محاصرہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

کمیٹی نے ضروری سامان کے بغیر کام کرنے والے ہسپتالوں، ہر روز کی بجلی کی بندش اور پینے کے لیے مضر صحت پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ کی کل آبادی کو سزا دے رہا ہے۔

کمیٹی نے حماس پر بھی الزام لگایا کہ وہ ریڈ کراس کو چار سال سے ان کی قید میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت تک رسائی نہ دے کر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

اسرائیلی کمانڈو نے غزہ شہر کے لیے امداد لے کر جانے والی کشتیوں پر حملہ کر دیا تھا جس میں کئی ترک کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔

اسرائیلی حملے کے بعد بین الاقوامی سطح پراسرائیل کی طرف سے غزہ کے محاصرے کی پرزور مذمت کی گئی تھی۔

اسرائیلی حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اب کہا گیا ہے کہ مذکورہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس میں دو بین الاقوامی مبصر بھی شامل ہوں گے۔

بین الاقوامی مبصرین میں شمالی آئرلینڈ کے سابق سیاستدان اور امن کے نوبل انعام یافتہ ڈیوڈ ٹرمبل اور ریٹائرڈ کینیڈیائی جنرل کین واٹکن شامل ہیں۔

اسرائیل نے اقوام متحدہ کے زیر انتظام تحقیقات کروانے کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔ اسرائیلی کابینہ پیر کو مجوزہ تحقیقات کی منظوری دے گی۔

امریکہ نے اپنے رد عمل میں امید ظاہر کی ہے کہ اسرائیل بغیر کسی تاخیر کے تحقیقات کروانے کے بعد اس کے نتائج منظر عام پر لائے گا۔

امریکی انتظامیہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کروائے گا۔

اسی بارے میں